Showing posts with label Urdu Literature. Show all posts
Showing posts with label Urdu Literature. Show all posts

غیر افسانوی ادب

غیر افسانوی ادب


تخلیقی ادب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب۔ تخلیقی عمل میں دنیا کی حقیقتوں، مسائل، تجربات، مشاہدات اور احساسات کو قصہ پن کے بغیر ادب اور فن کے تقاصوں کی تکمیل کے ساتھ پیش کیا جائے تو ایسی نثر غیر افسانوی نثر کہلاتی ہے۔ غیر افسانوی ادب میں قصہ بیان کرنے کی بجائے ادیب، زندگی میں در پیش حقیقی واقعات کو اپنے احساسات، اختیار کردہ مخصوص صنف کی ہیئت کے دائرہ کار میں پیش کرتا ہے ۔

معروف تعریف کے مطابق ادبی سطح پر غیر افسانوی نثر سے ہم ایسی نثر مراد لیتے ہیں جس میں کہانی کا عنصر موجود نہ ہو۔ ہماری جامعات میں اُردو نثر کی تقسیم اسی بنیاد پر کی جاتی ہے۔جن اصناف نثر میں کہانی کا عنصر موجود ہو انھیں ”افسانوی ادب“ کے ذیل میں رکھا جاتا ہے اور دیگر نثری اصناف جن میں کہانی کا عنصر موجود نہیں”اسالیب نثر اردو“ کے تحت پڑھائی جاتی ہیں۔
جامعاتی سطح پر دو خاص تکنیکی حوالوں سے نثر کی تدریس، نظم یا شاعری کی تدریس سے مشکل ہوجاتی ہے۔ سب سے اہم تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ ہم آج بھی نثر کو نظم کی شعریات کے تناظر میں پڑھاتے ہیں۔ اوّلین ضرورت یہ ہے کہ نثر کو نظم کی شعریات سے الگ کرکے پڑھایا جائے اور یہ ذہن میں رکھا جائے کہ اب نثر کی شعریات وضع ہوچکی ہے۔ بات صرف اُسے سمجھنے اور تدریس میں برتنے کی ہے۔


دوسرا تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ غزل یا نظم کی تدریس اُس کے مکمل متن کو سامنے رکھتے ہوئے کی جاسکتی ہے لیکن نثر میں یہ ممکن نہیں۔ آپ ”شہاب نامہ“ یا ”دنیاگول ہے“ یا”آبِ گُم“ وغیرہ کے سارے متن کو سامنے رکھتے ہوئے تدریسی تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتے۔ مزید براں یہ کہ غیر افسانوی نثر کی تدریس، افسانوی نثر کی تدریس سے بھی نسبتاً مشکل ہوجاتی ہے۔ یہاں بنیادی مسئلہ دلچسپی کا عنصر ہے۔ غیر افسانوی نثر، کہانی کا عنصر نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کی نظر میں غیر دلچسپ ٹھہرتی ہے۔ افسانوی نثر میں کہانی پن کی وجہ سے جو دل آویزی، رنگا رنگی اور دلچسپی پیدا ہوتی ہے وہ غیر افسانوی نثر میں مفقود ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ قصہ کہانی سے طلبا کسی نہ کسی شکل میں واقف ہوتے ہیں لیکن غیر افسانوی نثری اصناف سے جامعات کے طلبا بھی بالعموم آگاہ نہیںہوتے۔
اصناف کی بات ہوئی تو یہ بتاتا چلوں کہ جامعات میں افسانوی اور غیر افسانوی ہر دو طرح کی نثر کی تدریس مختلف اصناف کی صورت میں کی جاتی ہے۔ اور یہ ضروری بھی ہے کیوں کہ مختلف اصناف میں نثر اپنی صورت بدلتی ہے بلکہ مضمون جیسی صنف میں موضوع کی مناسبت سے بھی نثر اپنی شکل تبدیل کرتی ہے اور اس حوالے سے کسی نہ کسی حد تک مختلف اصناف کی تدریس کے تقاضے بھی بدلتے ہیں۔ لہٰذا اصناف کی تقسیم سے تدریس کا عمل موثر ہوگا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ تقسیم کی جاتی ہے وہ مقصد تدریسی عمل سے حاصل نہیں کیا جاتا۔ مثلاً جامعات سے فارغ التحصیل طلبا یہ تو بتا سکتے ہیں کہ مضمون نگاری ایک نثری صنف ہے مگر یہ نہیں بتا سکتے کہ مضمون کی نثر موضوع کی مناسبت سے اپنی ہئیت بھی بدلتی ہے اور نہ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اپنی ہئیت کیسے بدلتی ہے، پھر یہ کہ مختلف اصناف میں نثر کی ہئیت کیا شکل اختیار کرتی ہے۔

اصناف کی تقسیم اس لیے بھی اہم ہوتی ہے کہ طلباءان نثری اصناف سے اور اُن کے تقاضوں سے بخوبی آگاہ ہوسکیں۔ خاص طور پر جامعاتی سطح پر اصناف کی سرسری تعریف یا مبادیات ہی نہیں اُس سے بڑھ کر بھی کچھ جان سکیں مثلاً سفرنامہ نگاری کو لیں، جامعات میں بھی صرف یہ ہی بتایا جاتا ہے کہ جب کوئی ادیب کسی دوسرے ملک کا سفر کرتا ہے اور اس کے بعد سفر سے متعلق اپنے تاثرات، مشاہدات، حالات اور واقعات نثر میں پیش کرتا ہے تو اُسے سفرنامہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ تعریف تو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطحوں کے طلباءکی تدریس کے دوران بھی کی جاتی ہے۔ وہاں بھی مختلف سفرناموں کے مختصر اقتباسات شامل نصاب ہوتے ہیں اور مدرس یہ بنیادی تعریف بتا کر ہی سبق کا آغاز کرتا ہے۔ پھر جامعاتی اور ثانوی سطحوں کی تدریس میں کیا فرق ہوا؟ جامعاتی سطح پر تو ضرورت ہے کہ طلبا کو اصناف کی مبادیات سے آگے بڑھایاجائے اور بعض صورتوں میں مبادیات کو چیلنج بھی کیا جائے۔ خیر اس کا مطلب اب یہ بھی نہیں کہ تدریسی عمل میں مبادیات کو یکسر فراموش کردیا جائے۔ مبادیات کی تدریس پہلا قدم ضرور ہے کیوں کہ ہم یہ بھی توقع نہیں کرسکتے کہ جامعات کی سطح پر پہنچنے والے تمام طلبا ہر صنف کی مبادیات سے اچھی طرح واقف ہو ں گے اور وہ اس لیے کہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر مدرس بے شک جزواً جزواً تو بتاتا ہے کہ یہ سفرنامہ ہے، یہ افسانہ ہے یا یہ مضمون ہے مگر کلیتاً وہ نثر کی تمام اقسام کو ایک ہی نام یعنی ”نثری اسباق“ سے جوڑنے پر مجبور ہوتا ہے کیوں کہ وہاں نصاب کی ترتیب و تنظیم ہی ایسی بنیادوں پر کی گئی ہوتی ہے۔ لہٰذا طلباءکا بنیادی تصور یہ ہوتا ہے کہ اُن کے نصاب میں چودہ یا پندرہ نثری اسباق ہیں۔ اُن میںسے کتنے مضامین، کتنے افسانے، کتنے ناول یا ڈراموں کے اقتباسات اور کتنے سفرنامے وغیرہ شامل ہیں، طلبا کی بیشتر تعداد زیادہ دیر تک ان باتوں سے آگاہ نہیں رہتی۔ اس لیے جامعات کی سطح پر اصناف میں تفریق اُن کی مبادیات کی تدریس سے پیدا کرنا ضروری اور پہلا قدم ہے لیکن زور اس بات پر ہے کہ یہ آخری قدم نہیں ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوا کہ مزید آگے بڑھنا ضروری ہے۔ مثلاً بات سفرنامہ نگاری کی ہورہی تھی تو اس ذیل میں تدریس کا عمل تعریف اور دو چار سفرناموں کے تذکرہ یا شامل نصاب سفرنامہ کے خلاصہ کردینے پر مکمل نہیں ہوگا۔ بات کو ان حدوں سے آگے لے جانا ہوگا۔ مثلاً سفرنامے کو دو تہذیبوں میں قربت کا بہترین ذریعہ اور وسیلہ بتایا او ر سمجھایا جاسکتا ہے اور اُّ س کے لیے شامل نصاب سفرنامے سے ہٹ کر دیگر سفرناموں خاص طور پر عالمی کلاسکس کی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔مثال کے طور پر مارکوپولو کے مشہور زمانہ سفرنامہ کو پیش کیا جاسکتا ہے جس نے اپنے سفرنامے سے مشرق کے بارے میں مغرب کے نقطہ نظر کو بدل کر رکھ دیا۔ اس سفرنامہ کی وجہ سے اہلِ مغرب کا یہ خیال کہ اہلِ مشرق وحشی اور غیر متمدن ہوتے ہیں، بڑی حد تک تبدیل ہوگیا۔ اور یوں مارکوپولو کا یہ سفرنامہ مغربی اور مشرقی تہذیبوں کو قریب لے آیا۔ یعنی یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اعلیٰ سفرنامہ دو تہذیبوں کے درمیان مخاصمت ، دوری اور تعصبات کو مٹانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ وہ صرف مہمات کو ہی دلچسپ پیرائے میں نہیں ڈھالتا بلکہ دوتہذیبوں یا ثقافتوں کے درمیان اپنائیت، یگانگت اور انسانی تعلقات کو بھی استوار کرتا ہے۔ لیکن ہر سفرنامہ یہ فریضہ انجام نہیں دیتا۔ بہت سے سفرنامہ نگار دوسری تہذیب کو تعصب کی نگاہ سے دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ طلباکو ان ہر دو طرح کے لکھنے والوں سے واقف کیا جانا ضروری ہے اور اس کی شناخت سفرنامہ نگار کے اسلوب نثر سے ہی کرائی جاسکتی ہے۔ اگر سفرنامہ نگار دو تہذیبوں کو قریب لانے اور محبت پیدا کرنے کا خواہاں ہوگا تو اس کے اسلوب سے اپنائیت اور خلوص جھلکتا دکھائی دے گا اور اگر مصنف کا نقطہ نظر مخاصمانہ اور عنادانہ ہے تو پھر اُس کے اسلوب میں نفرت اور تعصب کا رنگ ظاہر ہوگا۔

مقالے کا آغاز ہم نے اس بات سے کیا تھاکہ جامعات میں شامل نصاب نثری متون کلاس میں نہیں پڑھائے جاسکتے جب کہ نثر کا طریق تدریس بھی ممکن حد تک Text Oriented یعنی متن اساس ہونا چاہیے۔ کلاس میں متن موضوع تو بنتاہے مگر خود اُس کا وجود کلاس سے غائب ہوتا ہے۔ عام رویہ یہ ہے کہ طلباءکو از خود متن پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے لیکن طلباءبراہ راست متن پڑھنے کے بجائے اس نثری متن سے متعلق اِدھر اُدھر سے چند تنقیدی مضامین پڑھ کر ایک تاثر قائم کرلینے پر اکتفا کرلیتے ہیں جو کسی بھی طور پر احسن رویہ نہیں۔ ہمیں کسی بھی طور متن کوکلاس میں لانا ہے۔ یہ درست کہ پورا نثری متن کلاس میں نہیں پڑھا جاسکتا لیکن اساتذہ طویل نثری فن پاروں کے ایسے منتخب اقتباسات ضرور کلاس میںپڑھا سکتے ہیں جن سے نہ صرف یہ کہ بنیادی موقف کی بھرپور وضاحت ہوسکے بلکہ طلبا اعلیٰ نثر کے نمونوں سے براہ راست آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ لطف اندوز بھی ہوسکیں۔ علاوہ ازیں طلبا کے ذمہ ایسی اسائنمنٹس لگائی جاسکتی ہیں جن کی تیاری میں وہ متن کو براہ راست پڑھنے پر مجبور ہوسکیں۔ پھر یہ کہ کلاس میں دوران بحث اس بات کا پابند کیا جاسکتا ہے کہ طلبا دلیل کے لیے متن کوٹ کریں وغیرہ وغیرہ۔

اصل اور خالص غیر افسانوی نثر کی تدریس سرسید احمد خان کی نثر پڑھانے سے ہی ممکن ہے۔ کیوں کہ مضمون نگاری وہ صنف ادب ہے جو غیر افسانوی نثر کی تعریف پر پوری طرح، پوری اترتی ہے۔ سرسید احمد خان کی مضمون نگاری اس حوالے سے بھی قابل ذکر ہے کہ یہ وہ پہلا قدم تھا جس سے اردو نثر نے پہلی بار اردو نظم سے خود کو اس قدر ممتاز کیا۔ سرسید نے ہی پہلی بار اردو نثر کو جذبات کے اثر سے نکال کر عقل کے تابع کیا لیکن اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ سرسید کی نثر میں جذبات کا عمل دخل سرے سے موجود ہی نہیں۔ بے شک اُن کی نثر میں جذبات بھی ہیں اور تخیل بھی لیکن اس نثر کو بنیادی سروکار عقل سے ہے اور یہی عنصر اسے خالص نثر کے ذیل میں لاتاہے۔

یہ بات تو ہم سب پر عیاں ہے کہ سرسید کی نثر مقصدیت کی حامل ہے اور ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر سرسید کے مضامین اسی بنیادی تصور کے تحت ہی پڑھائے جاتے ہیں لیکن سرسید کا کمال محض یہ نہیں کہ انھوں نے مقصدی اور خالص علمی نثر کو اُردو میں رائج کردیا بلکہ کمال یہ ہے کہ ان کے مضامین کی ایک خاص تعداد علمیت اور مقصدیت کے باوجود ادبیت کی حامل ہے۔ جامعاتی سطح پر سرسید کی نثر کی تدریس کا مرکزی نقطہ یہ ہونا چاہیے۔ سرسید نے جو مذہبی اور تعلیمی یا علمی نوعیت کے مضامین لکھے ان کی اہمیت اپنی جگہ پر اور اُن کا ذکر بھی ضرور کیا جانا چاہیے لیکن تدریس کا مرکز سرسید کی وہ نثر ہونا چاہیے جو ادبیت کے ذیل میں آتی ہے۔ ثانوی اور اعلی ثانوی درجوں پر بے شک اس کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی اور نہ اتناوقت ہوتا ہے کہ ان طلباکو سرسید کی نثر کی ادبیت سے پوری طرح آگاہ کیا جائے لیکن جامعاتی سطح پر اور خاص طور پرجامعات کے اردو کے شعبہ جات میں اس سے گریز ممکن نہیں۔ اگر سرسید احمد خان کو شعبہ سیاسیات یا شعبہ تاریخ وغیرہ میں پڑھایا جارہا ہو تو پھر سرسید کی ادبیت سے زیادہ علمیت اور مقصدیت زیر بحث آئے گی لیکن اردو ادب میں سرسید کے مضامین علمی حیثیت کے حامل ہونے کے باوجود خود کو اپنی ادبیت کی وجہ سے ہی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

اصل میں جامعات کی سطح پر سرسید کی نثر کو پڑھاتے ہوئے بہت سی باتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ سرسید کی نثر کی بہتر سے بہتر تدریس، اردو کی غیر افسانوی نثر کی مجموعی تدریس میں حد درجہ معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہاں تین چار اقدامات کی بات خاص طور پر کی جائے گی۔

اس تدریس کا پہلا قدم تو یہی ہے کہ سرسید کی ادبیت کو پوری طرح موضوع بنایا جائے اور ان کی مقصدیت کا راگ یہ سوچ کر ذرا کم الاپا جائے کہ یہ کام پچھلے درجوں میں بہ احسن و خوبی نبھایا جاچکا ہے لہٰذا پہلے پہل سرسید کے وہ مضامین پڑھائے جائیں جن میں ادبیت کا رنگ واضح ہے مثلاً ”گزرا ہوا زمانہ“،” خوشامد“،”امید کی خوشی“،’ سراب حیات“،”بحث و تکرار“ اور ”آدم کی سرگزشت“ وغیرہ۔ لیکن سرسید احمد خان کی ہی نثر سے ہم مضمون کی مختلف اقسام میں تفریق کی تدریس بھی کرسکتے ہیں اور طلباءکو علمی مقالہ، ادبی مضمون اور انشائیہ میں فرق کی وضاحت کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں ایک ایسا انتخاب پیش نظر رکھنا ہوگا جس کے مطالعہ سے اور کلاس میں بحث کے بعد طلبا اس بات سے آگاہ ہوسکیں کہ ان تینوں اقسام میں کیا فرق ہے۔ بالعموم ایسا نہیں کیا جاتا اور طلباءکا concept اس معاملے میں صاف نہیں ہوپاتا۔ حالاں کہ انشائیہ کی بحث کو بھی سرسید کی مضمون نگاری کے تذکرہ میں ہی نپٹایا جاسکتا ہے۔ سرسید کے مضامین میں انشائی طرز کی تلاش بھی کوئی مشکل امر نہیں۔ اس ضمن میں”طریقہ تناول طعام“ جیسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں اور اردو انشائیہ کے ابتدائی تیور واضح کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ احتیاط لازم ہے کہ استاد اس طرح کی لاحاصل بحثوں میں ہی الجھ کر نہ رہ جائے کہ اردو کا پہلا نشائیہ نگار کون ہے یا پہلا مضمون نگار کون ہے وغیرہ وغیرہ۔

جامعات میں بعض اوقات سرسید کی نثر کی تدریس کا آغاز ہی یہ بات منوانے سے ہوتا ہے کہ سرسید احمد خان اردو کے پہلے مضمون نگار ہیں اور ان کے مقابلے میں ماسٹر رام چندر کی اولیت کو چیلنج کرنے میں بہت سا وقت ضائع کردیا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ بات علمی مقالہ نگاری اور ادبی مضمون نگاری کی تفریق کے تحت زیادہ موثر انداز سے واضح کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے جو طریقہ تدریس اختیار کرنا ہوگا وہ مطالعہ کا تقابلی طریقہ ہے جو عالمی سطح کی تدریس کا موثر اور غالب رجحان ہے۔ عالمی سطح کی تدریس میں تو دیگر زبانوں کے ادب سے تقابل کا بہترین اور سود مند طریقہ رائج ہے مگر ہمارے ہاں اس سے گریز برتا جاتاہے یا اس کا نہایت غیر مفید اور غیر علمی استعمال ہوتا ہے۔ ہم تقابل کے ذریعے کسی ایک کی برتری یا اولیت وفوقیت کو ثابت کرنے پر تُل جاتے ہیں اور تقابل کا بنیادی مقصدیعنی فن یا فکر کی تفہیم، وہ نظرانداز کردیا جاتا ہے۔
بات ہورہی تھی ماسٹر رام چندر اور سرسید احمد خان کی نثر کی اور اُس کے تقابل کی ۔ ہم بجائے اس کے کہ یہ ثابت کرنے پر سارا زور صرف کردیں کہ سرسید احمد خان پہلے مضمون نگار تھے یا ماسٹر رام چندر، ہم دونوں کی نثری تحریروں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بتا سکتے ہیں کہ ماسٹر رام چندر کی نثر علمی مقالہ نگاری کے ذیل میں آتی ہے اور ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے علمی اور سائنسی مقالہ نگاری کی نثر کے ذریعے جس سے اردو بالکل ناآشنا تھی، ایک نئی زبان وضع کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ سرسید نے علمی مضامین جو مقالہ نگاری کے ذیل میں آتے ہیں، لکھنے کے باوجود خالص ادبی مضامین بھی لکھے جو مضمون کی صنف میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اس طرح ہم علمی مقالہ نگاری اور ادبی مضمون نگاری کی نثر میں فرق کر نے کے قابل ہوجائیں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اس تدریس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک دو مقالے ماسٹر رام چندر کے بھی طلباءکو پڑھنے کے لیے دیے جائیں تاکہ وہ خودان میں فرق اور امتیاز کو نشان زد کرسکیں۔

تقابلی مطالعے کا ذکر چلا تو سرسید احمد خان کی نثر پڑھانے کا تیسرا لازمی قدم انگریزی نثر نگاروں سے سرسید کی نثر کا صحت مند تقابلی مطالعہ بھی ہے۔ سرسید احمد خان کی نثر پڑھاتے ہوئے انگریزی نثر سے اس کا تقابل کرنے سے نہ صرف یہ کہ سرسید کی نثر کا وسیع تناظر میں مطالعہ ہوسکتا ہے بلکہ اردو کے طلباءکنویں کا مینڈک بننے سے بھی بچ سکتے ہیں اور اس طرح ان کی انگریزی نثر کا مطالعہ بھی بہتر بنایاجاسکتا ہے اور اردو طلبا پر یہ اعتراض کہ ان کی انگریزی کم زور ہوتی ہے (جو یقینا ہوتی ہے) بڑی حد تک دور کیا جاسکتا ہے۔
عام طور پر جامعات میں سرسید کی نثر کے حوالے سے طوطے کی طرح یہ بار بار رٹایا جاتا ہے کہ سرسید انگلستان گئے اور وہاں اسٹیل اور ایڈیسن کے اخبارات ”ٹیٹلر“ اور ”اسپیکٹیٹر“ سے متاثر ہوئے اور واپس آکر انہوں نے اسی طرز پر ”تہذیب الاخلاق“ کا اجرا کیا۔ حالاں کہ یہ بات بھی طلبا ثانوی درجوں سے مسلسل سنتے چلے آرہے ہوتے ہیں۔ اور جامعات میں بھی بات یہیں سے شروع ہو کر یہیں پر ختم ہوجاتی ہے۔ جب کہ چاہیے تو یہ کہ جب آپ اسٹیل اور ایڈیسن کا اس قدر نام لے رہے ہیں تو طلبا کے سامنے وہ نمونے بھی پیش کریں جن سے سرسید کی مضمون نگاری کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اساتذہ نے خود بھی صرف اسٹیل اور ایڈیسن کے نام سن رکھے ہوتے ہیں ان کے نمونہ نثر سے واقف نہیں ہوتے لہٰذا اپنے طلبا کو بھی بس یہ دو نام رٹا دینا کافی سمجھتے ہیں۔
اگر ہم تدریس کے عمل کو موثر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اس ذیل میں کم سے کم ایک یا دو مضامین خاص طور پر ایڈیسن کے ضرور طلباءکو پڑھنے کے لیے دیں۔ یہاں بھی ایک بات قابل غور ہے کہ صرف suggest نہ کریں طلباءکو مضامینprovide کریں اس سے طلباءکیtext reading کا تناسب بڑھے گا۔ اور یہ مضامین provideکرنے کے بعد انہیں یہ خود دیکھنے دیا جائے کہ کیا واقعی سرسید، ایڈیسن سے متاثر دکھائی دیتے ہیں؟ انھوں نے کہاں کہاں ایڈیسن کی پیروی کی اور کہاں کہاں سے وہ انحراف کرجاتے ہیں؟ مثلاً سرسید نے عام فہم زبان اور اخلاقی درس کے سلسلے میں تو ایڈیسن کی پیروی کی مگر ایڈیسن نے درس اخلاق کے لیے جو مزاج پر مبنی طرز اپنایا اور معاشرتی بداخلاقیوں پر ہنسنے ہنسانے کا جو اسلوب اختیار کیا وہ سرسید احمد خان کے ہاں شاذونادر ہی نظر آتا ہے۔ سرسید کا اسلوب زیادہ ترسنجیدہ اور مفکرانہ ہے۔ اور اس طرح کے اسلوب کی انگریزی مضمون نگاری میں مثال ڈاکٹر جونسن کی ہے لیکن ہمارے ہاں ڈاکٹر جونسن کا نام بالعموم نہیںلیا جاتا۔ اگر طلباءکو ڈاکٹر جونسن سے بھی متعارف کرایا جائے اور ایک آدھ تحریر اس کی بھی پڑھنے کو دی جائے تو طلباءبخوبی جان لیں گے کہ سرسید اور ڈاکٹر جونسن نے نثر کے تبلیغی رنگ کو کس قدر خوبی سے نبھایا ہے کہ وہ بلا تامل قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ طلباءیہ بھی جان لیں گے کہ بڑے بڑے لاطینی الفاظ استعمال کرنے سے ڈاکٹر جونسن کی نثر سرسید کی بہ نسبت زیادہ ثقیل ہوجاتی ہے جب کہ سرسید کی نثر اس حوالے سے ہلکی پھلکی رہتی ہے کیوں کہ ان کا مقصد ہی اردو نثر کو عربی اور فارسی کے بھاری بھرکم الفاظ سے محفوظ رکھنا تھا۔

پھر ایک نام فرانسِس بیکن کا ہے جس نے صحیح معنوں میں نثر کا یہ بنیادی اصول قائم کیا کہ نثر کو عقل کے قابو میں ہونا چاہیے اور جذباتی اور تصوراتی تاثرات کو ضرورت سے زیادہ نہ برتنا چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو سرسید کی نثر کا بھی یہی بنیادی تصور ہے۔ اس لیے اگر طلباءکو فرانسس بیکن کے ”الیسیز“ کا تعارف اور بنیادی موضوع بتایا جائے اور ساتھ اس کا ایک مضمون Of Studies خاص طور پر طلباءکو پڑھنے کے لیے دے دیا جائے تو کیا مضائقہ ہے۔
تقابل کے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا اور زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سرسید عام طور پر جذبات سے دور ہی رہتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود انھوںن ے جذبات کو اکثر جگہوں پر مناسب جگہ بھی دی ہے۔ لیکن ایڈیسن، جونسن اور فرانسس بیکن کی تحریروں کا جذبات سے واسطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب ہم انگریزی ادب کی تاریخ میں ذرا آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا نثر نگار ملتا ہے کہ جس کے ہاں نثر میں جذباتی رنگ کو آمیز کرنے کا قدرتی منکہ موجود ہے۔ یہ نثر نگار چارلس لیمب ہے جس نے مضمون نگاری کی صنف کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ اس کےEssays of Elia مضمون نگاری کا شاہکار کہے جاسکتے ہیں۔اُس نے تو خیر مضمون کی صنف کی ہر صفت کو بڑے کمال سے برتا ہے۔ ہمیں یہاں چارلس لیمب اور سرسید احمد خان کی مضمون نگاری کا مکمل تقابل مقصود نہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ چارلس لیمب جس طرح مضمون میں جذبات کی رنگ آمیزی کرتاہے وہ کیسی ہے اور سرسید احمد خان کے ہاں وہ کس شکل میں ہے۔ سرسید احمد خان کا مضمون ’امید کی خوشی‘ اردو نثر میں اس حوالے سے اہم ہے اور جامعات کے نصاب میں بالعموم شامل بھی ہوتا ہے۔ دوسری طرف چارلس لیمب کا مضمونDream Children اس حوالے سے دنیائے نثر کا اہم ترین مضمون ہے اس لیے اگر طلباءکو یہ مضمون بھی پڑھنے کے لیے مہیا کیاجائے تو انہیں معلوم ہوسکے گاکہ سرسید کے ہاں کیسے کیسے اور کہاں کہاں کے رنگ موجود ہیں۔

یہاں تک ایک بات ضرور واضح ہوجاتی ہے کہ جامعاتی سطح پر اردو کی تدریس کے دوران ہمیں طلباءکو عالمی سطح کی اہم زبانوں کے ادب عالیہ سے ضرور واقف کرانا چاہیے۔ اور یہ کوشش کرنی چاہیے کہ عالمی ادب کے اہم نام اور کام ہمارے لیے یکسر اجنبی نہ رہیں۔ اردو نثر نگاری کی تدریس میں بھی ہمارا یہ مطمح نظر ضرور ہونا چاہیے۔اس لیے اگر سرسیدکی نثر کی تدریس میں درج بالا تقابلی طریق برتا جائے تو دنیائے ادب کے اور خاص طور پر انگریزی ادب کے بڑے بڑے نثر نگاروں سے طلبا کی واقفیت لازم ہے۔

بہرحال سرسید کی نثر کی تدریس کا یہ بھی آخری قدم نہیں ہے۔ سرسید کی نثر کو تنقیدی نقطہ نظر سے بھی کلاس میں پیش کیا جانا ضروری ہے۔ یہ بھی وہ عمل ہے جو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجوں کی تدریس میں نہ تو ممکن ہوتا ہے اور نہ ضروری۔ لیکن جامعاتی سطح پر یہ تدریس کا لازمہ ہونا چاہیے تاکہ اس سطح کے طلباءکے تنقیدی شعور کی بہتر پرداخت ہوسکے۔ اس مقصد کے لیے کلاس میں اس طرح کے سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً سرسید کے مضمون ”گزرا ہوا زمانہ“ یا ”بحث و تکرار“وغیرہ میں آخر میں چند ناصحانہ فقروں نے مضمون کی صحت اور تاثر پر کیا اثر چھوڑا ہے؟ کیا وہ واقعی ضروری تھے یا صرف ایک ناصح مضمون نگار کی تشفی کا باعث ہیں؟ پھر یہ کہ سرسید کی نثر میں بعض جگہوں پر کیا ترکیبوں کا بھدا پن اور لفظوں کا عامیانہ پن محسوس نہیں ہوتا؟ کیا سرسید انگریزی الفاظ کا بغیر ضرورت کے جا بجا استعمال نہیں کرتے جس سے ان کی نثر کا لطف اور کیف متاثر ہوتا ہے؟وغیرہ وغیرہ۔ چوں کہ طلبا نہ صرف یہ کہ سرسید کی بیشتر تحریریں پڑھ چکے ہوں گے بلکہ انگریزی نثر کے شاہکاروں سے بھی آگاہ ہوچکے ہوں گے اس لیے وہ اس طرح کے سوالات پر بہتر اظہار خیال کرسکیںگے اور اس طرح ان کی تنقیدی تربیت کا سامان ہوسکےگا۔
اگر چہ مختصر وقت میں غیر افسانوی نثرکی تدریس کے لیے اس مقالے میں سرسید کی نثر کو ہی زیادہ بنیاد بنایا گیا ہے لیکن میں چند مزید لیکن انتہائی مختصر باتیں غالب کی نثر اور خاکہ نگاری کی تدریس کے حوالے سے بھی کرنا چاہوں گا۔
غالب کے خطوط اور اُن کی نثر بلاشبہ بے مثال ہے۔ بے شک انھوں نے اردو نثر میں سلاست، سادگی، مکالمہ نگاری، ظرافت، طنز اور جزئیات نگاری کو پہلی بار رواج دیا اور ادبی نثر کو زندہ و جاوید کردیا۔ ان سب کی تدریس اپنی جگہ پر لیکن جامعاتی سطح پر تدریس کے دوران غالب کی نثر کا وژن مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ غالب کی نثر کو مکتوب نگاری کے فن سے نکال کر اگر کچھ دیر کے لیے ناول کے تحت بھی دیکھا جائے تو دلچسپ بحث اٹھائی جاسکتی ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوا تھا کہ جامعاتی سطح پر اصناف کی مبادیات پڑھا دینا ہی کافی نہیں بعض اوقات اصناف اور ان کی مبادیات کو چیلنج کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ غالب کے خطوط پڑھاتے ہوئے اس امر کی ضرورت ہے کہ انہیں مکتوب سے بڑھ کر ناول کی حیثیت سے بھی دیکھا اور پڑھا جائے۔ یہاں میں ایک دو اور مثالیں انگریزی ادب سے دینا چاہوں گا۔ اٹھارویں صدی میں انگریزی ادب میں خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوئے جنہوں نے مکتوب نگاری کی نئی صنف ادب کا اضافہ کیا ان میں ایک مجموعہ ہو زلیس والنول کے خطوط کا بھی تھا جس کے بارے میں کہا گیا کہ ان خطوط میں اُس زمانے کی زندگی کے حالات کسی تاریخ یا ناول سے بہتر انداز میں پیش ہوئے ہیں۔ اگر ہوزیس والنول کے خطوط کو اس تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے تو غالب کے خطوط کو کیوں نہیں؟ یہ بھی خاطر نشان رہے کہ والیول کے عہد میں ناول کی صنف وجود میں آچکی تھی جبکہ غالب جس وقت خطوط لکھ رہے تھے اس وقت اردو میں ناول ابھی منظر عام پر نہیںآیا تھا۔ لہٰذا ہمار ے لیے ان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس عہد کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ اور معاشرت ہمیں غالب کے خطوط ہی میں نظر آسکتی ہے۔ ایک دلچسپ بات اور بھی ہے کہ سیموئل رچرڈ سن کی جس کتاب کے لیے پہلے پہل ناول کالفظ استعمال ہوا یعنیPamela or Virtue Rewarded وہ بھی خطوط کا ہی مجموعہ تھی۔

خاکہ نگاری کے ذیل میں ایک بات نہایت اہم ہے۔ ہماری جامعات کے نصاب میں بالعموم کسی ایک خاکہ نگا ر کے ہی خاکوں کا مجموعہ یاانتخاب شامل ہوتا ہے جو میرے خیال سے اس لیے درست نہیں کہ اس طرح اردو خاکہ نگاری کے مختلف اور متنوع اسالیب نثر سے طلباءواقف نہیں ہوپاتے۔ ضروری ہے کہ نصاب میں اردو کے بہترین خاکوں کا ایک انتخاب شامل کیا جائے۔ مثلاً اس ضمن میں ڈاکٹرانور احمد کی کتاب ’اردو کے دس یادگار خاکے‘ یا مبین مرزا کے مرتبہ خاکے ’اردو کے بہترین شخصی خاکے‘ کی جلد اول شامل کی جاسکتی ہے اس طرح طلباءبیک وقت مختلف نثر نگاروں کے اسلوب نگارش سے آگاہ ہوسکیں گے۔ پھر یہ کہ اسی صورت طلباءکو پرانی اور نئی خاکہ نگاری میں تفریق کی تدریس، جو کہ بہت ضروری ہے،موثر انداز سے کی جاسکتی ہے۔عصمت چغتائی کے ”دوزخی“ اور منٹو کے خاکوں کے ذریعے جدید اردو خاکے کے اطوار واضح کیے جاسکتے ہیں۔ اور اسی صورت انہیں شخصیت نگاری اور خاکہ نگاری کا باریک فرق بھی سمجھا یا جاسکتا ہے۔

طنز و مزاح کے ذیل میں بھی نصاب میں صرف شوکت تھانوی یا پطرس بخاری کے ہی مضامین یا مشتاق احمد یوسفی کی ’آب گم‘ شامل کرنے کی بجائے طنز و مزاح پر مبنی مختلف نثر نگاروں کی تحریروں کا انتخاب نصاب میں شامل ہونا چاہیے تاکہ طنز و مزاح کے بھی مختلف اسالیب نثر سے طلبا کی واقفیت ہوسکے۔
جامعات میں تدریس کے دوران اصناف کی تاریخ اور اس کے پس منظر پر عام طور پر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی زور صرف کیا جاتا ہے اور اس بات پر توجہ کم یا بالکل نہیں دی جاتی کہ زیرِ مطالعہ صنف برتنے کا طریقہ کیا ہے اور یہ کیوں اور کیسے برتی جاتی ہے؟ اس کی ضرورت غیر افسانوی نثر کی تدریس میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا اساتذہ کو اس ضمن میں توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے اور اس کے لیے ایک دو عملی کام کروانے چاہئیں۔ مثلاً ایک تو ہر طالب علم کو ایک ایک نثری فن پارہ تنقیدی رائے کے لیے دیا جائے اور اسے تحریری رائے دینے کا پابند بنایا جائے اس کے علاوہ طلباءکو کم سے کم ایک ایک نثری فن پارہ تخلیق کرنے کی تحریک بھی دی جائے اس سے تدریس کے عمل کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

آخر میں ایک بات یہ کہ اساتذہ کو کلاس میں پڑھاتے ہوئے یہ احساس برابر رہنا چاہیے کہ وہ نثر بول رہے ہیں اور طلبا میں بھی یہ احساس اجاگر کرانا چاہیے کہ وہ نثر سن اور بول رہے ہیں تاکہ انہیںمشہور فرانسیسی ڈرامہ نگار مولیئر کے کردار کی طرح اس بات کا احساس چالیس برس بعد نہ ہو کہ وہ جو کچھ بولتے اور سنتے رہے ہیں وہ ہی نثر ہے۔

Qaseeda Ki Tareef In Urdu

December 04, 2018
•

،Urdu poetry

”قصیدہ“ اُس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی کی مدح یعنی تعریف کی جاۓ یا کسی کی ہجو یعنی بُرائی کی جاۓ۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ لفظ قصیدہ قصد سے نکلا اور اسکا سبب یہ ہے کہ شاعر ارادہ کر کے کسی کی مدح یا ہجو کرتا ہے۔ بعض نے اس کے معنی ”مغزِ غلیظ“ کے بیان کیے ہیں .
غزل کی طرح قصیدے کا پہلا شعر بھی مطلع کہلاتا ہے اور اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ وہ ردیف ہوتا ہے بعض قصیدے بغیر ردیف کے ہوتے ہیں .باقی اشعار کے دوسرے مصرعوں میں قافیہ وہ ردیف یا صرف قافیہ ہوتا ہے .غزل ہی کی طرح قصیدے میں بھی مقطع ہوتا ہے لیکن قصیدے میں کچھ چیزیں غزل سے مختلف ہوتی ہیں مثلاً درمیاں میں کئ مطلعے ہو سکتے ہیں اور مقطع ضروری نہیں کہ قصیدے کا آخری شعر ہو .

فہرست

قصیدے کی اقسا م

قصیدے کے اجزائے ترکیبی

١ تشبیب
٢ گریز
٣ مدح
٤ مدعا
٥ دُعا
قصیدے کا آغاز و ارتقاء
کیا آپ نے یہ پڑھا؟
قصیدے کی اقسا م
قصیدے کی دو قسمیں ہوتی ہیں :

١ْخطابیہ اور٢ْ تمہيدیہ


١ ۔۔خطابیہ قصیدہ وہ ہے جس میں شاعر تمہید باندھے بیغر مدعا بیان کر دے .مطلب یہ کہ اگر قصیدہ مدحیہ ہے تو شاعر ممدوح کو خطاب کرے اور اس کے اُوصآف کو بیان کرنا شروع کر دے .ہجویہ ہے تو براہ راست اس کی مذمّت کرنے لگے تھے .اصل مدعا وعظ وہ نصیحت ہے تو بلا کسی تمہید کے آغاز ہو جاۓ .


٢ ۔۔تمہیدیہ قصیدہ وہ ہے جس میں اصل مدعا سے پہلے تمہید باندھی جاۓ پہر مدعا بیان کیا جاۓ .یہ تمہید تشبیب یا نسیب کہلاتی ہے اور بہار و خزاں جس میں عشق اور پند و نصیحت کے مضامین پر مشتمل ہو سکتی ہے .اسی کی رعایت سے قصیدے کو بہاریہ .عشقیہ اور واعظیہ کہا جا سکتا ہے .

قصیدے کے اجزائے ترکیبی
نہ صرف اردو بلکہ عربی اور فارسی میں بھی تمہیدیہ قصائد کا رواج رہا ہے .یعنی قصیدہ نگار مدح یا ہجو کرنے سے پہلے تمہید باندھتا ہے .پھر اصل موضوع پر آتا ہے .تمہیدیہ قصیدے کے عموماً پانچ اجزاء ہوتے ہیں :
تشبیب ،گریز ۔ مدح ، مدّعا اور دعا ۔ذیل میں ان پانچوں اجزاء کی وضاحت کی جاتی ہے .

١ تشبیب

قصیدے کی تمہید کو تشبیب یا نسیب کہتے ہیں .تشبیب کے موضوعات مختلف ہو سکتے ہیں .اس میں شباب و شراب کا ذکر کیا جا سکتا ہے .بہار کی منظر کشی کی جا سکتی ہے .تشبیب میں خود ستائی یعنی اپنے اوصاف بیان کرنے کی بھی گنجائش ہے .یہ بھی ممکن ہے کہ تشبیب پند و نصائح پر مشتمل ہو یا اس میں بے ثباتیِ دنیا کا بیان ہو غرض یہ کہ تشبیب کے موضوعات لامحدود ہیں .

تشبیب کو قصیدے کا سب سے اہم حصّہ خیال کیا جاتا ہے .اس لئیے شاعروں نے اس پر بہت محنت کی ہے .غالبؔ کو اپنی تشبیب پر بڑا ناز تھا انہوں نے بہادر شاہ ظفر کی مدح میں ایک قصیدہ لکھا ہے جس کی تشبیب بہت دلکش ہے .پہلی تاریخ کا چاند انھیں ایسا لگتا ہے جیسے کوئ شخص تسلیم بجا لانے کو جھکا ہوا ہے .شاعر سوال کرتا ہے کہ اے مہ نو یہ بتا کہ تو جھک کر کسے سلام کر رہا ہے

ہاں مہ نو سنیں ہم اسکا نام
جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام

٢ گریز

تشبیب کے بعد شاعر مدح کی طرف قدم بڑھا تا ہے .وہ براہِ راست مدح نہیں کرتا بلکہ بات سے بات پیدا کر کے مدح کی طرف آتا ہے .اس بات سے بات پیدا کرنے کو گریز کہتے ہیں .غالب کے قصیدے سے تشبیب کی جو مثال او پر پیش کی جا چکی اس میں شاعر پوچھتا ہے کہ اے مہ نو آخر تو کس کو جھک کے سلام کر رہا ہے .جواب نہیں ملتا تو کہتا ہے کہ تو اس کا نام نہیں جانتا تو لے میں بتاتا ہوں .وہ تاجدار بہادر شاہ ہے

تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن
نام شائہنشہ بلند مقام

قبلہ جان و دل بہادر شاہ
مظہر ذلجلال والاکرام ۔
یہ گریز کی مثال ہوئی .

٣ مدح

.اس کے بعد شاعر اپنے ممدوح کی تعریف کرتا ہے اور اس میں خوب مبالغ سے کام لیتا ہے یہی قصیدے کی خوبی ہے .قصیدے میں خاص طور پر مدح کے حصّے میں شاعر پر شکوہ الفاظ کا استعمال کرتا ہے اس سے مدح میں زور پیدا ہوتا ہے مدح مثال ملاحظہ ہو .

سہسوارِطریقہ انصاف
نو بہار حدیقہی اسلام

جس کا ہر فعل صورت اعجاز
جس کا ہر قول معنی الہام


٤ مدعا

قصیدے کا چوتھا جز مدعا یا عرض مطلب ہے یعنی مدح گوئی کے بعد قصيده نگار اپنا مدعا بیان کرتا ہے جیسے غالب نے ایک قطعے میں اپنی مالی مشکلات بیان کرنے کے بعد کہا ہے .

میری تنخوا کیجئے ماہ بہ ماہ
تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار

لیکن یہ قصیدے کا لازمی جز نہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہر قصیدے میں شاعر اپنا مدعا بیان کرے .

٥ دُعا


قصیدے کا آخری جز دعا ہے یعنی شاعر اپنے ممدوح کو درازی عمر یا بلندی اقبال وغیرہ کی دعا دے کر قصیدہ ختم کر دیتا ہے .جیسے غالب نے اپنے قصیدے میں بہادر شاہ کو دعا دی کہ تمہاری سلطنت قیامت تک باقی رھے .

ہے ازل سے روانی آغاز
ہو ابد تک رسائ انجام

قصیدے کا آغاز و ارتقاء
قصیدے نے سر زمیں عرب میں جنم لیا اور وہاں بے حد مقبول ہوا لیکن قدیم شعراۓ عرب نے قصیدہ گوئی کو جھوٹی خوشامد اور کار بر آری یعنی اپنا کام نکالنے اور انعام پانے کے لیے استعمال نہیں کیا .عرب شعراء قصیدے میں اپنے قبیلے ۔اپنے گاؤں .کسی بزرگ یا اپنے محبوب کی تعریف بغیر کسی غرض کے صدق دل سے کرتے ہیں .

اس وقت قصیدے میں جھوٹ اور مبالغے کا بھی گزر نہ تھا .اس لئے قصیدہ نگار جو کچھ لکھتا ہے .سننے اور پڑھنے والے اس پر یقین کرتے تھے .لیکن آگے چل کر یہ صورت نہ رہی اور شاعر اپنے حصول مطلب کے لیے استعمال کرنے لگے. عرب سے یہ صنف ایران پوھنچی .وہاں کی مخصوص تہذیب نے اسے متاثر کیا نتیجہ یہ کہ قصیدے میں تصنعے ۔ بناوٹ ۔ مبالغہ آرائ اور جھوٹ کا دور دور ہو گیا فارسی کے بلند پایا شاعروں نے قصیدے کی طرف توجہ کی اور اسے بہت فروغ دیا لیکن قصیدہ اب مصلحت کا شکار ہو چکا تھا اور اسے کام نکالنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا تھا .

اردو میں قصیدہ نگاری کی شروعات دکن سے ہوئی سلطان محمّد قلی قطب شاہ نے ١٦١١ ء کے قریب قصيدے لکھے .ان قصائد کی زبان کو دکنی اردو کہنا بجا ہے کیوں کہ دکنی الفاظ کی کثرت ہے .دکن کے قصیدہ گو شعراء میں نصرتیؔ کا نام بھی اہم ہے اس کے بعد شمالی ہند میں سودا نے قصیدہ گوئ میں بڑا نام ادا کیا اس صنف سے انکی طبیعیت کو خاص مناسبت تھی .

انھون نے مدحیہ ۔ ہجو قصائد بھی لکھے اور شہر آشوب بھی کہے .قصیدہ نگاری کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں مثلاً زور بیان .شوکت الفاظ مضمون نیز پر کششت دلچسپ گریز ۔پر جوش اور مبالغہ آمیز مدح وہ سب سوداؔ کے قصیدوں میں موجود ہے. لکھنو میں مصحفیؔ و انشاءؔ نے بھی بہت سے قصیدے لکھے لیکن عہد سوداؔ کے بعد قصیدہ نگاری کا دوسرا اہم نام مومنؔ ذوقؔ. اور غالبؔ کا ہے .مومن کسی دربار سے وابستہ نہ تھے نہ انعام و اکرام کے طلبگار تھے لیکن اظہارِ تشکر کے طور پر انھوں نے بھی قصیدے کہے .

غالب نے کہئ قصیدے لکھے اور اس میدان میں بھی اپنا راستہ سب سے الگ نکالا .قصيده نگاری میں ان کی توجہ مدح سے زیادہ تشبیب پر رہتی ہے .غالب کے قصیدے اپنا انفرادی رنگ رکھتے ہیں .لیکن اس عہد کے سب سے اہم قصيده گو ذوقؔ ہیں .ان کے قصیدے گہرا علمی رنگ لئیے ہوئے ہیں اور ان میں اصطلاحات کا کثرت سے استعمال ہوا ہے .

منیرؔ شکوہ آبادی .امیرؔ مینائی اور جلالؔ لکھنوی لکھنو اسکول سے تعلق رکھتے ہیں .مرثیہ گوئی میں انہیں اعلی مقام حاصل ہے نعتیہ قصیدہ گوئی میں محسنؔ کاکوری نے قابل رشک مقام حاصل کیا .قصيدے اس کے بعد بھی کہے گیۓ لیکن پھر کوئی ایسا قصيده نگار پیدا نہیں ہوا جس کا نام قابلِ ذکر ہو.


اردو اصناف سخن میں قصیدہ کا مقام

اردو اصناف سخن میں قصیدہ کا مقام

قصیدہ نگاری کی ابتداء عربی زبان میں ہوئی ۔ اہل عرب عکاظ کے میلہ میں جمع ہوتے اور اپنے لکھے ہوئے قصائد سناتے ۔ ان قصیدوں میں سے 7 قصائد کو چن کر کعبہ شریف کی دیوار پر چسپاں کیا جاتا تھا ۔ اقوام عالم کی زبانوں میں عربی کو فصیح اور بلیغ زبان تصور کیا جاتا ہے ۔ اسی لئے آخری صحیفۂ آسمانی بھی اسی زبان میں اتارا گیا ۔ عرب شعراء بڑے قادرالکلام ہوا کرتے تھے ۔ وہ گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر دس ، بیس میل کی مسافت طے کرتے اور اسی دوران قصیدہ کے اشعار مکمل کرلیتے تھے ۔ عرب خود کو بولنے والا اور دیگر تمام ممالک کو عجمی یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ جب عکاظ کے میدان میں لوگ قصیدے لکھ کے لاتے اور چیدہ قصیدوں کو کعبہ کی دیوار پر لٹکادیا جاتا تھا جس کا مقصد یہی تھاکہ اس سے بہتر کلام پیش کرنے کی صلاحیت والوں کو چیلنج کیا جائے ۔

عربی سے قصیدہ کی صنف فارسی میں اور فارسی سے اردو ادب میں مقبول ہوئی ۔ قصیدہ عربی کے لفظ قصد سے مشتق ہے ۔ قصد کے معنی ارادہ کے ہیں اور قصیدہ بالارادہ لکھی جانے والی شاعری ہے ۔ قصیدہ ایسی صنف سخن کو کہا جاتا ہے جو کسی کی تعریف میں بالارادہ لکھی جائے ۔ اگر تعریف میں قصیدہ لکھا جاتا ہے تو وہ مدحیہ قصیدہ کہلاتا ہے اور اگر مذمت میں لکھا جائے تو ہجویہ قصیدہ کہلاتا ہے ۔ قصیدہ میں پرشکوہ الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے اور عام طور پر الفاظ معرب اور مفرس استعمال کئے جاتے ہیں ۔ مبالغہ قصیدہ کا لازمی جزو قرار دیا جاتا ہے ۔ غالب نے بہادر شاہ ظفر کی مدح میں قصیدہ لکھا تھا جس سے مبالغہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔

تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
قصیدہ کے اجزائے ترکیبی میں تشبیب ، گریز ، مدح اور دعا کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور انہیں فنی طور پر قبول کیا جاتا ہے ۔
تشبیب : تشبیب میں۲ ، ۴ ، ۶ یا ۸ یا اس سے بھی زائد بند لکھے جاتے ہیں ۔ قصیدہ کے پہلے حصے یعنی تشبیب میں حسن کی تعریف و توصیف کی جاتی ہے ۔ تشبیب لفظ شباب سے نکلا ہے عام طور پر قصائد میں بہاریہ تشبیب یا پھر چاند اور چاندنی رات کی تشبیب باندھی گئی ہے ۔
گریز : قصیدہ کا دوسرا حصہ گریز ہے جس میں تشبیب سے پرہیز کرتے ہوئے ممدوح کی تعریف کی جانب توجہ دی جاتی ہے جس سے قصیدے میں نیا موڑ پیدا ہوتا ہے ۔ عام طور پر گریز کے دوران ہی مدح کا وسیلہ تلاش کیا جاتا ہے ۔ گریز کے دوران ۲ تا ۴ بند پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔
مدح : قصیدہ کا یہ حصہ عام طور پر ممدوح کی تعریف پر مشتمل ہوتا ہے اور قصیدہ نگار مبالغہ کے دریا بہاتا ہے ۔ قصیدہ میں مبالغہ کی وجہ سے دلکشی پیدا ہوتی ہے ۔ قصیدہ کے پہلے جز یعنی تشبیب کے پڑھنے سے قصیدہ کے معیار کا پتہ چلتا ہے اور مدح کے ذریعہ شاعر کی کلام پر دسترس کا اندازہ ہوتا ہے ۔ غرض قصیدہ میں گریز کے بعد کا مرحلہ مدح سے وابستہ ہے ۔
دعا : مدح کے بعد یا قصیدہ کے دوران شاعر اپنا مدعا ظاہر کرتا ہے اور آخر میں ممدوح کے حق میں دعا کرتا ہے ۔اس طرح دعا اور حسن مدعا بھی قصیدہ کے ایک جزو کا مرتبہ رکھتے ہیں ۔
قصیدہ چاہے کسی بھی ملک میں لکھا جائے اس کو شاہی اور جاگیر شاہی نظام کی دین تصور کیا جاتا ہے ۔ ایران ہو یا ہندوستان ، جہاں بھی بادشاہت تھی وہاں کے شعراء نے ان بادشاہوں کی تعریف میں قصیدے لکھے جس کا مقصد حصول انعام و اکرام رہا ۔ بادشاہ ، نواب ، نواب زادے اور جاگیردار حضرات نے ان شعراء کی مالی امداد کے لئے نہ صرف وظائف مقرر کئے بلکہ مختلف انداز میں شعراء کو نوازا ۔ اس طرح شاعری میں قصیدہ کو عروج حاصل ہوا ۔
قصیدہ کے اقسام : قصیدے کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ایک تمہیدیہ اور دوسرا خطابیہ ۔



تمہیدیہ : ایسا قصیدہ جس میں ممدوح کی تعریف سے پہلے تمہید کے طور پر تشبیب اور گریز ہو وہ تمہیدیہ قصیدہ کہلاتا ہے ۔
خطابیہ : ایسے قصیدے جس میں تشبیب اور گریز نہیں ہوتے بلکہ قصیدہ کا آغاز ہی ممدوح کی تعریف سے شروع ہوتا ہے وہ خطابیہ قصیدہ کہلاتا ہے ۔ قصیدوں کو مضمون کے اعتبار سے چار قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ مدحیہ ، ہجویہ ، وعظیہ اور بیانیہ ۔ اردو شاعری میں سوداؔؔ کو قصیدہ گوئی میں اولیت کا شرف حاصل ہے ۔ قصیدہ میں ان کے مدحیہ قصائد اور ہجویہ قصائد اہمیت کے حامل ہیں۔ مصحفیؔ نے سوداؔ کو ’’قصیدہ کا نقاش اول، زبان کا حاکم اور ہجو کا بادشاہ‘‘ بتایا ہے اور محمد حسین آزاد نے ان کی قصیدہ گوئی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے ’’اول قصائد کا کہنا پھر اس دھوم دھام سے اعلی درجے اور فصاحت پر پہونچانا ان کا پہلا فخر ہے ۔ وہ اس میدان میں فارسی کے نامی شہہ سواروں کے ساتھ عنان در عنان ہی نہیں بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نکل گئے ہیں ۔ ان کے کلام کا زور و شور انوری و خاقانی کو دباتا ہے اور نزاکت مضمون میں عرفی و ظہوری کو شرماتا ہے‘‘ ۔سودا نے قصیدہ کو اجزائے ترکیبی سے وابستہ کیا ۔ اگر شاعری میں کسی کی شخصیت پر لعن طعن کی بات ہو تو ایسے قصیدہ کو ہجویہ قصیدہ کہتے ہیں ۔ ہجویہ قصیدہ کے ساتھ ہی سودا کے ملازم خاص غنچہ کا تصور ذہن میں آجاتا ہے جو ہمیشہ سودا کے ساتھ قلم دان لئے پھرتا تھا ۔ اگر سودا کسی سے خفا ہوجاتے چاہے وہ کتنا ہی صاحب ثروت و ذی اثر آدمی کیوں نہ ہو ۔ کچھ ہی دیر میں سودا اس کے تعلق سے ہجو لکھ دیتے تھے اور چند ہی گھنٹوں میں اس ہجو کی سارے شہر میں گشت ہونے لگتی تھی ۔

سودا نے رثائی کلام پر بھی خصوصی توجہ دی ۔ مرثیہ کے لئے انہوں نے مسدس کی ہیئت تجویز کی چنانچہ آج تک بھی مرثیہ اسی ہئیت میں لکھا جاتا ہے ۔ جاگیردارانہ نظام میں بادشاہ کی حیثیت ایک درخت جیسی تھی اور اس کے نواب ، جاگیردار وغیرہ اس کی شاخیں تھیں ۔ جب یہ درخت ہی اکھڑ گیا تو سارا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ جب ممدوح نہ رہے تو مدح کس کی کی جائے گی ۔ اس طرح صنف قصیدہ روبہ زوال ہوئی لیکن ہمارے ادب کا یہ قیمتی اثاثہ ہے ۔
قصیدہ گوئی میں سودا کے بعد جو اہم نام سامنے آتے ہیں ان میں غالب اور ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ دور حاضر میں ہجویہ قصائد میں صدق جائسی نے اپنے فن کا لوہا منوایا ہے ۔


قصیدہ

November 28, 2018
•


قصیدہ


“لفظ قصیدہ عربی لفظ قصد سے بنا ہے اس کے لغوی معنی قصد (ارادہ ) کرنے کے ہیں۔ گویا قصیدے میں شاعر کسی خاص موضوع پر اظہار خیال کرنے کا قصد کرتا ہے اس کے دوسرے معانی مغز کے ہیں یعنی قصیدہ اپنے موضوعات و مفاہیم کے اعتبار سے دیگر اصناف ِ شعر کے مقابلے میں وہی نمایاں اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے جو انسانی جسم و اعضاءمیں مغز کو حاصل ہوتی ہے فارسی میں قصیدے کو چامہ بھی کہتے ہیں”۔
اردو ادب میں قصیدہ فارسی سے داخل ہوئے۔ اردو میں میرزا رفیع سودا اور ابراہیم ذوق جیسے شعرا نے قصیدے کی صنف کو اعلی مقام تک پہنچایا۔ قصیدہ ہیئت کے اعتبار سے غزل سے ملتا ہے بحر شروع سے آخر تک ایک ہی ہوتی ہے پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور باقی اشعار کے آخری مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ مگر قصیدے میں ردیف لازمی نہیں ہے۔ قصیدے کا آغاز مطلع سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات درمیان میں بھی مطلعے لائے جاتے ہیں ایک قصیدے میں اشعار کی تعداد کم سے کم پانچ ہے زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں۔ اُردو اور فارسی میں کئی کئی سو اشعار کے قصیدے بھی ملتے ہیں۔

اجزاء

تشبیب  ،، گریز ،،  مدح ،،    دعائیہ



تشبیب

قصیدے کا پہلا حصہ تشبیب کہلاتا ہے۔ اس میں شاعر عشق و عاشقی کی باتیں، شباب جوانی کے قصے اور فضا کی رنگینی کا حال بیان کرتا ہے۔

گریز

تشبیب کے بعد قصیدے میں گریز کی منزل آتی ہے گریز کی یہ خوبی قرار دی گئی ہے کہ تشبیب کے بعد ممدوح کا ذکر نہایت ہی فطری اور موزوں طریقے سے کیا جائے یعنی بیان میں ایک فطری مناسبت، تسلسل اور ربط قائم رہے۔

مدح

قصیدے کا سب سے ضروری جز مدح سرائی ہے۔ اور اسی پر قصیدے کی بنیا د ہوتی ہے۔ عربی قصائد میں مدح حقیقت اور واقعیت سے بھر پور ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک عرب شاعر کو کسی نے اپنی مدح پر مجبور کیا تو اس نے جواب دیا کہ ” تم کچھ کرکے دکھائو تو میں تمہاری مدح کروں۔“ مگر فارسی اور اردو میں مدح کا معیار خیال آفرینی اور مبالغہ ہوتا ہے۔ یہاں ممدوح کی ذات میں مثالی خصوصیات فرض کرکے بیان کی جاتی ہیں۔ قصیدوں میں مدح کا حصہ اکثر تکرار مضامین کی وجہ سے بے لطف ہو جاتا ہے۔

دعائیہ

قصیدے کا آخری حصہ دُعائیہ ہوتا ہے اس میں ممدوح کو بلند اقبال اور درازی عمر کی دعا دی جاتی ہے۔ بعض اوقات شاعر اپنی اچھی یا بری حالت ظاہر کرتا ہے۔ دعا کے ذریعے قصیدہ گو اپنا صلا بھی طلب کرتا ہے۔ دعا قصیدے میں نازک مقام ہے اور قصیدے کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر دعا پر ہی ہوتا ہے اور قصیدے کے مقطع میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے۔







قصیدہ سے کیا مراد ہے؟

کہتے ہیں۔قصیدہ شعری صنف کے اعتبار سےعربوں کی ایجاد ہے۔ Eulogy قصیدہ عربی زبان کا لفظ ہے۔اس کو انگریزی میں

قصیدہ لفظ قصد سے ہےجس کے معنی ارادہ کرنے کے ہیں۔بعض روایات کے مطابق اس کے معنی مغز کے بھی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ قصیدہ تمام اصنافِ شعری میں وہی حیثت رکھتا ہے جو انسانی جسم میں سر یا مغز کی ہے۔ اس کوفارسی میں چامہ کہتے ہیں۔ یوں تو قصیدہ کے اصطلاحی معنی کسی زندہ شخصیت کی تعریف کرنا کے ہیں۔اسکو جنگی ادوار میں سرداروں اور قبائلی حکام کی تعریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔عرب کی فتوحات کی بدولت یہ صنفِ شاعری ایران میں آئی اور پھر یہاں سے برصغیر میں منتقل ہوتی چلی گئی۔

قصیدہ دراصل درباری طرز کی شاعری ہے جس میں شان وشوکت، جاہ و جلال، جوش اور ولولے کو امتیازی حیثت حاصل ہوتی ہے۔ شاہی درباروں میں قصیدے کو ہر دلعزیزی حاصل ہوئی مگر مغلیہ دور کے زوال کے ساتھ ہی اس صنفِ شاعری کا رنگ کچھ پھیکا پڑنا شروع ہو گیا۔اور یہ صنف حمد و نعت میں زم ہوتی چلی گئی۔

ہیت کے اعتبار سے قصیدہ غزل سے ملتی جلتی صنف ہے۔اس کی بحر شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی ہوتی ہے۔اس کا آغاز مطلع سے ہوتا ہے اور ردیف لازم نہیں ہوتا۔اس کے کم از کم اشعار کی تعداد پانچ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ اشعار کی تعداد مقرر نہیں۔اردو اور فارسی زبان میں کئی کئی سو اشعار کے قصیدے ملتے ہیں۔قصیدہ کے پانچ اہم اجزاء یہ ہیں؛

تشبیب؛

تشبیب کے معنی شباب کے ہیں۔ یہ قصیدہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ اس میں صرف نفسِ مضمون باندھاجاتا ہے۔

گریز؛

یہ قصیدے کا دوسرا جز ہے جس میں لکھاری اصل موضوع کی طرف توجہ دلاتا ہے۔قصیدہ اور گریز میں ربط ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ اس کی بدولت ہی ایک قصیدہ شاندار تصور کیا جاتا ہے۔

مدح؛

اس حصہ میں قصیدہ گو اس شخصیت کی تعریف بیان کرتا ہےجس پر قصیدہ لکھا جا رہا ہوتا ہے۔اس کی شجاعت، بہادری کے پل باندھے جاتے ہیں اور بعد میں اس کے ساز و سامان کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔

طلب؛

اس جزو میں شاعر ممدوع سے اپنی بیان کی گئی مداح کا صلہ طلب کرتا ہے۔

دعا؛

یہ قصیدے کا آخری جزو ہے اس میں شاعر ممدوع کے لیے دعا طلب کرتا ہے۔



اردو نظم

November 18, 2018
•

اردو نظم


اردو ادب کی دو اصناف ہیں، اردو نثر اور اردو نظم یعنی اردو شاعری۔ پھر اردو شاعری کی کئی قسمیں ہیں جن میں نظم، غزل، مثنوی، قصیدہ، مرثیہ، رباعی، مخمس، مسدس، مثمن، قطعہ، نعت وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سب سے مشہور صنف غزل ہے جسے ہر خاص و عام نے قبول کیا اور سراہا ہے مگر اردو شاعری کی سب سے وسیع قسم اردو نظم ہے۔ اردو نظم میں بہت زیادہ تجربے کیے گئے ہیں اور یہی اس کی وسعت کی دلیل ہے۔ نظیر اکبر آبادی، الطاف حسین حالی، اکبر الہ آبادی اور اقبال، جوش ملیح آبادی، ساحر لدھیانوی، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، ن م راشد، اسماعیل میرٹھی، نظم طباطبائی نظم کے بڑے شاعروں میں سے ہیں۔ اردو میں نظم کی صنف انیسویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران میں انگریزی کے اثر سے پیدا ہوئی جو دھیرے دھیرے پوری طرح قائم ہو گئی۔ نظم بحر اور قافیے میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ اب نثری نظم بھی اردو میں مستحکم ہو گئی ہے۔

تعریف

نظم شاعری کی ایک ایسی قسم ہے جو کسی ایک عنوان کے تحت کسی ایک موضوع پر لکھی جاتی ہے۔ ، نظم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہیئت کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہ بحر اور قافیہ سے پابند بھی ہوتی ہے اور ان قیود سے آزاد بھی۔ اس میں مضامین کی وسعت ہوتی ہے۔ نظم زندگی کے کسی بھی موضوع پر کہی جا کتی ہے۔

ارتقا


اردو نظم کی ابتدائی مثالیں قلی قطب شاہ کے دیوان میں ہی مل جاتی ہے۔ بلکہ اردو ادب کا سب سے پہلا شہ پارہ مثنوی کدم راو پدم راو دراصل اردو نظم کی ہی قسم ہے۔ اس لیے یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ اردو نظم کی تاریخ بہت پرانی ہے بلکہ ادب کی ابتدا ہے۔ بعد میں نظیر اکبرآبادی (1735–1830) نے اردو نظم کو مقام عروج عطا کیا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر بیشتر نظمیں لکھی ہیں۔ نظیر میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لیے مشہور ہیں۔[3]، ان کی آدمی نامہ، بنجارا نامہ، راکھی، روٹیاں مشہور نظموں میں سے ہیں۔ ان کی اکثر نظمیں مشہور ہیں۔

محمد حسین آزاد (1830–1910) اور حالی نے اردو نظم میں مغربیت کا تعارف کروایا اور یوں اردو نظم میں جدت پسندی کی ابتدا ہوئی جس سے موضوعات میں وسعت پیدا ہوئی۔ اب ملکی حالات، اجتماعی خیالات و احساسات پر نظمیں لکھی جانے لگیں۔ پھر اسماعیل میرٹھی(1844–1917)، شبلی نعمانی(1857–1914)، اکبر الہ آبادی (1846–1921) اور چکبست(1882–1926) کا دورآتا ہے جنہوں نے اردو نظم کے ارتقا میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مگر اردو نظم کی ہیئت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ ان میں حسین آزاد اور اسماعیل میرٹھی نے آسان زبان میں بچوں کے لیے نظمیں لکھی ہیں۔ اردو نظم کی ہیئت میں تبدیلی کی پہلی کوشش عبد الحلیم شرر (1860–1926)کے ذریعے ہوئی جنہوں نے نظم معرا کو رائج کرنے کی کوشش کی۔ اسی کو آگے بڑھانے کا ذمہ نظم طباطبائی (1854–1933)نے لیا جنہوں نے اس کی ہیئت میں مزید تبدیلی کی۔ چونکہ اس دور میں مغربی ادب کے تراجم ہونے لگے تھے لہذا مغرب کا اثر اردو نظم پر بھی ہوا اور نظم کے اسلوب اور ہیئت میں خاصی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ اقبال (1877–1938) نے اردو نظم میں کافی کچھ لکھا اور نت نئے تجربے کیے۔ ان کے بعد سیماب، حفیظ، ساغر، جمیل مظہری، افسر، جوش، احسان دانش، اختر شیرانی اور ن م راشد نے مختلف موضوعات پر نظمیں لکھیں۔

ہیئت اور اسلوب کے سلسلے میں جن شعرا نے تجربہ کرنے کی کوشش کی ان میں عظمت اللہ خان کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ہندی کے سبک الفاظ، بحریں اور علامتیں استعمال کر کے اپنی نظموں میں انفرادیت پیدا کی۔ آگے چل کر میر اجی نے آزاد نظموں کے سلسلے میں عظمت اللہ خان کے طرز سے فائدہ اٹھایا۔ [4]، اردو شاعری اور خاص طور پر اردو نظم میں ترقی پسند تحریک انقلاب پیدا کر دیا۔ اب اسلوب، ہیئت، موضوع، سانچہ اور تعداد اشعار میں وسعت دیکھنے کو ملی۔ آزاد نظم کو ایک الگ مقام ملا۔ ن م راشد، تصدق حسین، ضیا جالندھری اور مجید امجد اس دور کے قابل ذکر شاعر ہیں۔

اہم نظمیں

اردو نظم کے شعرا اردو ادب کو کچھ ایسی نظمیں دے گئے ہیں جو رہتی دنیا تک اردو ادب اور خاص طور پر اردو شاعری کو لوگوں کی زبان اور دل میں جگہ بنانے کا موقع عنایت کرتی رہے گی۔ علامہ اقبال کی بچوں کی دعا (لب پہ آتہ ہے دعا بن کے تمنا میری)، حالی کی مسدس مد و زجر اسلام (مسدس حالی، نظیر اکبرآبادی کی آدمی نامہ اور بنجارہ نامہ، حفیظ جالندھری کی شاہنامہ اسلام:، اختر شیرانی کی او دیس سے آنے والے بتا، ساحر لدھیانوی کی نظم:تاج محل، جوش ملیح آبادی کی نظم: کسان اردو نظم کے شاہکار نمونے ہیں۔ ذیل میں منیر نیازی کی نظم میں اور میرا خدا:


لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کام

بھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرام

ایک طرف آواز کا سورج ایک طرف اک گونگی شام

ایک طرف جسموں کی خوشبو ایک طرف اس کا انجام

بن گیا قاتل میرے لیے تو اپنی ہی نظروں کا دام

سب سے بڑا ہے نام خدا کا اس کے بعد ہے میرا نام

اقسام

ہیئت کی بنیاد پر اردو نظم کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں:

پابند نظم
طویل نظم
معرا نظم
آزاد نظم
نثری نظم

پابند نظم

پابند نظم غزل کی طرح بحر و قافیہ کی پابند ہوتی ہے۔ ابتدائی دور میں زیادہ تر پابند نظمیں ہی لکھی جاتی تھیں۔ چکبست، اقبال، نظیر اور جوش نے پابند نظمیں کہی ہیں۔

اقبال: مکڑی اور مکھی، پرندہ اور جگنو، مکڑا اور مکھی، ماں کا خواب،لا الہ الا اللہ،
الطاف حسین حالی: مٹی کا دیا، مناجات بیوہ
نظیر اکبرآبادی: آدمی نامہ، روٹیاں

طویل نظم

قصیدہ،مرثیہ یا مثنوی طویل نظم کی مثالیں ہیں، مثنوی، قصیدے اور مرثیہ کی بہ نسبت طویل ہوتی ہے اور بیک وقت ایک ہی مثنوی میں کئی ساری کہانیاں بیان کی جاتی ہیں مگر چونکہ مرکزی کہانی ایک ہوتی ہے اس لیے مثنوی مختصر کہانیوں کا مجموعہ نہ ہو کر ایک طویل نظم ہوتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ طویل نظم صرف مثنوی، مرثیہ یا قصیدہ ہی ہے۔ اردو نظم میں فکری نظموں نے بھی جگہ بنائی ہے۔ علامہ اقبال، حالی جوش، علی سردار جعفری، ساحر لدھیانوی نے بہت معیاری طویل نظمیں لکھی ہیں۔ اقبال کی شکوہ جواب شکوہ، ابلیس کی مجلس شوری کافی مشہور ہوئیں۔

اقبال: شکوہ، جواب شکوہ، ابلیس کی مجلس شوری، ساقی نامہ
حالی:برکھا رت، حب وطن، نشاط امید
علی سردار جعفری: نئی دنیا کو سلام، میرے خواب، بمبئی،
ساحر لدھیانوی: اے شریف انسانو، پرچھائیاں،
دیگر طویل نظم کے شاعروں میں حرمت الاکرام، ن۔م۔راشد، اختر الایمان، وزیر آغا، جعفر طاہر، رفیق خاور، عبد العزیز خالد، عمیق حنفی، قاضی سلیم قابل ذکر ہیں۔

معرا نظم

معرا نظم کسی مخصوص بحر میں کہی جاتی ہے مگر اس میں قافیہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کو انگریزی میں (blank verse) کہتے ہیں۔ اس نظم کا ایک عنوان بھی ہوتا ہے۔ اردو میں نظم معرا کی روایت انگریزی شاعری سے منتقل ہوئی، شروع میں اسے "غیر مقفی نظم" کہا جاتا تھا لیکن بعد میں عبد الحلیم شرر نے مولوی عبد الحق کے مشورے سے "نظم معرا" کی اصطلاح استعمال کی جو اب مقبول ہے۔ [6] معرا نظم کے اہم شعرا میں تصدق حسین، میر اجی، ن۔م۔راشد، فیض احمد جیض، اختر الایمان، یوسف ظفر، مجید امجد، ضیا جالندھری قابل ڈکر ہیں۔

آزاد نظم

آزاد نظم کو انگریزی میں (free verse) کہتے ہیں اور یہ پہلی مرتبہ فرانس غیر مساوی مصرعوں پر لکھی گئی ایک نظم تھی۔ حالانکہ اردو میں آزاد نظم میں بھٰ عروض کی پادنفی کی جاتی ہے مگر اس کو قافیہ و ردیف سے آزاد رکھا جاتا ہے۔ میر اجی، ن۔م۔راشد، فیض احمد فیض، سردار جعفری اور اختر الایمان آزاد نظم کے قابل ذکر شاعر ہیں۔

نثری نظم

یہ صنف مکمل آزاد صنف ہے اور اس میں وزن، ردیف اور قافیے کی پابندی نہیں کی جاتی ہے۔ لیکن شعریت کا عنصر ضرور موجود ہوتا اسی لیے اسے نظم کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔ ہر نظم کا ایک مرکزی خیال ہوتا جسے چھوٹی بڑی لائنوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نظم آج کل بہت مقبول ہو رہی ہے۔ سجاد ظہر، زبیر رضوی، کمار پاشی، عتیق اللہ صادق اس صنف کے چند اہم شاعر ہیں۔

دیگر اقسام

اردو نظم کی اشعار کی تعداد و ترتیب کے اعتبار سے بھی قسمیں کی جاتی ہیں۔

ترکیب بند
ترجیع بند
مستزاد
مسمط
مثلث
مربع
مخمس
مسدس
مثمن
متسع
معشر

اردو ادب

November 10, 2018
•

 

اردو زبان پر مشتمل ادب اردو ادب کہلاتا ہے جو نثر اور شاعری پرمشتمل ہے۔ نثری اصناف میں ناول، افسانہ، داستان، انشائیہ، مکتوب نگاری اور سفر نامہ شامل ہیں۔ جب کہ شاعری میں غزل، رباعی، نظم، مرثیہ، قصیدہ اور مثنوی ہیں۔ اردو ادب میں نثری ادب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ شعری ادب، لیکن غزل اور نظم سے ہی اردو ادب کی شان بڑھی ایسا سمجھا جاتا ہے۔ اردو ادب ہندوستان اور پاکستان میں مقبول ہے، ہندوستا میں مشہور بھی ہے اور افغانستان میں بھی سمجھا اور پڑھا جاتا ہے۔

اردو کے عناصرِ خمسہ میں جن شخصیات کے نام آتے ہیں ان میں سر سید، حالی، نذیر احمد، شبلی نعمانی اور محمد حسین آزاد ہیں۔ ان میں سے آزاد کے علاوہ باقی چاروں براہ راست اس تحریک سے وابستہ رہے ہیں بلکہ یوں کہیں کہ سرسید نے جو تحریک شروع کی تھی اس میں حالی،شبلی اور نذیر احمد سر سید کے داست راس رہے مگر آزاد ان کے شریک کار نہ تھے اور ان کی کوششوں کا رنگ تہذیبی اور معاشرتی نہیں تھا بل کہ خالص ادبی تھا مگر وہ بھی سر سید سے متاثر نظر آتے ہیں یا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اردو کے عناصرِ خمسہ کی پہلی شخصیت سر سید ہیں سر سید قوم کی اصلاح کے لیے لکھ ریے تھے انھوں نے اپنے خیالات تقاریر اور تحریروں کے ذریعے عوام تک پہنچائے انھوں نے سادہ نثر کو فروغ دیا قدامت پرستی کا خاتمہ کیا اردو نثر کو استدلال سے روشناس کروایا اور عقلیت کو اپنایا ان کے دلاہل مضبوط اور زوردار ہوتے۔سادہ اور عام فہم اسلوب سے ہر خاص و عام تک بات پہنچائی صناہع بداہع سے نثر کو پاک کیا

اس دور کی دوسری شخصیت حالی ہیں جنھوں نے ادرو ادب کو سوانح نگاری ادو تحقیق سے آشنا کیا سوانح نگاری میں ان کی تین سوانح عمریاں "حیاتِ سعدی،یادگارِغالب اور حیاتِ جاوید" اپنا منفرد مقام رکھتی ہیں ان کا "مقدمہ شعروشاعری" جدید اردو تنقید کا پہلا عظیم کارنامہ ہے اس کے علاوہ "مجالس النساء" لکھ کر بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایک اور کارنامہ سر انجام دیا۔

اس دور کی تیسری شخصیت ڈپٹی نذیر احمد ہیں جو اپنی بچیوں کے لیے کہانیاں لکھتے تھے اردو کے پہلے ناول نگار بن گئے۔نذیر احمد نے پہلی بار افسانوی ادب کو معاشرتی مسائل اور متوسط خاندانوں کی زندگی کا ترجمان بنایا۔ان کے ناول مراۃ العروس،توبتہ النصوع،فسانہِ مبتلا اور ابن الوقت آج بھی دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔آپ بہترین مقرر بھی تھے ان کے مضامین بھی خاصے کی چیز ہیں۔نذیر احمد نے پہلی بار اپنی کتابوں میں ظرافت کی چاشنی سے کام لیا۔ان کا مشہور کردار"ظاہردار بیگ" اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہے گا نذیر احمد نے پہلی بار دہلی کی نسوانی زبان کو رواج دیا۔

اردو کے عناصرِ خمسہ میں چوتھی شخصیت شبلی کی ہے۔ شبلی ایک ہمہ گیر طبیعت کے مالک تھے لیکن ان کے مزاج پر تاریخی رنگ زیادہ گہرا ہے۔وہ اردو کے پہلے عظیم مورخ ہیں جہنوں نے اردو ادب کو تاریخی سوانح عمریاں عطا کیں۔ مثلاً "المامون، الفاردق، الغزالی، سوانح مولانا روم، اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر اور سیرت النبوی" ادب تحقیق و تنقید میں "شعر الحجم اور موازنہ انیس ودبیر بھی ان کے دو شاہکار ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان کے مقالات بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔شبلی کے علمی مشاغل کے بہت سے پہلو ہیں وہ مورخ بھی ہیں اور فلسفی بھی،نقاد بھی اور شاعر بھی غرض یہ کے وہ اپنی ذات میں ایک دبستان تھے۔

محمد حسین آزاد جو اس دور کے ایک بے مثال ادیب ہیں اردو ادب کے عناصرِ خمسہ کی آخری کڑی۔انھوں نے انگریزی زبان کی تقلید کرتے ہوئے پہلی بار اردو میں تمثیلی مضامین لکھے جو بعد میں نیرنگِ خیال کے نام سے شاۂع ہوئے۔اردو ادب میں آزاد کی حقیقی شہرت ان کی "آبِ حیات" کی وجہ سے ہے یہ اردو شاعری کی تاریخ بھی ہے اور تنقید بھی۔ آزاد ایک مورخ بھی ہیں اور محقق بھی،ایک نقاد ارو ادیب بھی اور ایک صاحبِ طرز انشا پرداز بھی ادروکے یہ پانچ بڑے نام جنوں نے اردو ادب میں انقلاب برپا کر دیا اردو ادب میں نئی اصناف کا اضافہ کیا۔ زبان و بیان میں سادگی اپنائی۔ یہ لوگ ادب برائے زندگی کے قاۂل تھے۔ان لوگوں نے ادب کو حقیقت سے روشناس کروایا، قدامت پرستی سے ادب کو نجات دلائی، ان لوگوں نے ادب میں عام طبقے کے مساۂل کو ابھارا۔یہ ایک تحریک ہے اور اس نے اردو ادب کو نئی ڈگر پر چلنے کے قابل بنایا۔اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ نہ صرف اردو ادب کو یہ وقار حاصل ہوتا بل کہ اردو زبان کی یہ ترقی یافتہ شکل ہمارے سامنے نہ ہوتی۔ یوں کہیں کے ان لگوں نے اردو ادب میں ایک انقلاب برپا کیا جو نہ صرف اس دور میں بل کہ آنے والے دور میں بھی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔

 

آغاز

اردو ادب کا آغاز 14 ویں صدی میں شمالی بھارت میں ہوا۔ اس دور میں جو بھی سلاطین تھے ان کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ اس وجہ سے اردو ادب پر فارسی ادب کی چھاپ نظر آتی ہے۔ اردو زبان کی اصطلاحات کے ذخیرہ کو، سنسکرت سے ماخوذ پراکرت الفاظ، عربی، فارسی زبان کے الفاظ کا مشترکہ ملاپ سمجھا جاتا ہے۔ صرف زبان کا اشتراک ہی نہیں بلکہ ادبی، ثقافتی اشتراک بھی ہے۔


خاص کارنامے

اردو ادب کے آغازی دور میں حضرت امیر خسرو نام لیا جاتا ہے، یہ نہ صرف اردو ادب میں بلکہ ہندی ادب میں بھی کافی اہم ادیب مانے جاتے ہیں۔ اردو زبان اور اردو ادب کے بانیوں میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔ امیر خسرو فارسی، عربی، ہندی زبان میں ماہر تھے۔ اردو زبان کا آغاز تھا، تو انہوں نے ان زبانوں کو مربی شکل میں اردو میں پیش کیا۔ ان کے علاوہ محمد قلی قطب شاہ جو دکن سے تعلق رکھتے تھے، اردو، فارسی، عربی اور تیلگو زبانوں پر کافی اچھا عبور تھا۔ یہ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے، ان کی کلیات “ کلیاتِ قلی قطب شاہ“ ہے۔ تیلگو زبان میں بھی شاعری کہی۔ انہیں کی کاوشوں کے نتیجہ میں اردو زبان، ادبی زبان کی حیثیت سے جانی جانے لگی۔ ان کا انتقال 1611 میں ہوا۔[1]

سید شمس اللہ قادری کو دکنیات پر تحقیق کرنے کا سہرا جاتا ہے۔[2] ان کے تحقیقات سلاطین ع معبر 1929، [3] اردوئے قدیم 1930,[4] تاریخ ملیبار، [5] مورخینِ ہند، [6] تحفتہ المجاہدین 1931، [7] عمادیہ، [8] نظام التواریخ، [9] تاریخ زبان اردو-اردوئے قدیم، [10] تاریخ زبان اردو ال مسمے ٰ بہ اردوئے قدیم، [11][12] تاریخ زبان اردو یعنی اردوئے قدیم، [13] تاریخVol III,[14] اثرالکلام، [15] تاریخ، [16] شجرہ آصفیہ، [17] اہل یار، [18] پراچینا ملابار[19]

 

داستان گوئی


اردو ادب میں نثری ادب سے زیادہ نظمی ادب موجود ہے۔ جب بات نثری ادب کی آتی ہے تو صنف داستان کی تخلیقات زیادہ ہیں۔ ان داستانوں میں دیومالائی کہانیاں، قصے، کئی حالات کو بیان کرنے والی داستانیں وغیرہ۔

یہ صنف، قصہ گوئیوں پر، دلچسپ کہانی قصوں پر مبنی ہے۔ حقائق اور دلائل سے پرے داستانیں ہی اس صنف کے موضوعات تھے۔ فارسی مثنوی، پجنابی قصے، سندھی واقعاتی بیت وغیرہ داستانوی موضوعات بن گئے۔ سب سے قدیم اردو داستان حمزہ نامہ یا داستان امیر حمزہ ہے۔ میر تقی خیال کی بوستانِ خیال (1760) بھی اپنا خاصا مقام رکھتی ہے۔ اردو ادب میں جتنی بھی داستانیں ملتی ہیں وہ 19ویں صدی میں لکھی گئی ہیں۔ میر امن کی باغ و بہار، نہال چند لاہوری کی مذہبِ عشق، حیدر بخش حیدر کی آرائشِ محفل اور خلیل علی خان اشک کی گلزارِ چین وغیرہ اہم داستانیں ہیں۔[20] اور دیگر مشہور داستانیں حسین عطا خان تحسین کی نوطرز مرصع، مہر چند کھتری کی نو آئینِ ہندی (قصۂ مالک محمود و گیتی افروز)، شاہ حسین حقیقت کی جذبۂ عشق، سید محمد حسین جاہ کی طلسم ہوش ربا ہیں۔ 

 

 
Copyright © اردوادب. Designed by OddThemes