Showing posts with label غزل کی تعریف،Urdu poetry. Show all posts
Showing posts with label غزل کی تعریف،Urdu poetry. Show all posts

غیر افسانوی ادب

غیر افسانوی ادب


تخلیقی ادب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب۔ تخلیقی عمل میں دنیا کی حقیقتوں، مسائل، تجربات، مشاہدات اور احساسات کو قصہ پن کے بغیر ادب اور فن کے تقاصوں کی تکمیل کے ساتھ پیش کیا جائے تو ایسی نثر غیر افسانوی نثر کہلاتی ہے۔ غیر افسانوی ادب میں قصہ بیان کرنے کی بجائے ادیب، زندگی میں در پیش حقیقی واقعات کو اپنے احساسات، اختیار کردہ مخصوص صنف کی ہیئت کے دائرہ کار میں پیش کرتا ہے ۔

معروف تعریف کے مطابق ادبی سطح پر غیر افسانوی نثر سے ہم ایسی نثر مراد لیتے ہیں جس میں کہانی کا عنصر موجود نہ ہو۔ ہماری جامعات میں اُردو نثر کی تقسیم اسی بنیاد پر کی جاتی ہے۔جن اصناف نثر میں کہانی کا عنصر موجود ہو انھیں ”افسانوی ادب“ کے ذیل میں رکھا جاتا ہے اور دیگر نثری اصناف جن میں کہانی کا عنصر موجود نہیں”اسالیب نثر اردو“ کے تحت پڑھائی جاتی ہیں۔
جامعاتی سطح پر دو خاص تکنیکی حوالوں سے نثر کی تدریس، نظم یا شاعری کی تدریس سے مشکل ہوجاتی ہے۔ سب سے اہم تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ ہم آج بھی نثر کو نظم کی شعریات کے تناظر میں پڑھاتے ہیں۔ اوّلین ضرورت یہ ہے کہ نثر کو نظم کی شعریات سے الگ کرکے پڑھایا جائے اور یہ ذہن میں رکھا جائے کہ اب نثر کی شعریات وضع ہوچکی ہے۔ بات صرف اُسے سمجھنے اور تدریس میں برتنے کی ہے۔


دوسرا تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ غزل یا نظم کی تدریس اُس کے مکمل متن کو سامنے رکھتے ہوئے کی جاسکتی ہے لیکن نثر میں یہ ممکن نہیں۔ آپ ”شہاب نامہ“ یا ”دنیاگول ہے“ یا”آبِ گُم“ وغیرہ کے سارے متن کو سامنے رکھتے ہوئے تدریسی تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتے۔ مزید براں یہ کہ غیر افسانوی نثر کی تدریس، افسانوی نثر کی تدریس سے بھی نسبتاً مشکل ہوجاتی ہے۔ یہاں بنیادی مسئلہ دلچسپی کا عنصر ہے۔ غیر افسانوی نثر، کہانی کا عنصر نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کی نظر میں غیر دلچسپ ٹھہرتی ہے۔ افسانوی نثر میں کہانی پن کی وجہ سے جو دل آویزی، رنگا رنگی اور دلچسپی پیدا ہوتی ہے وہ غیر افسانوی نثر میں مفقود ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ قصہ کہانی سے طلبا کسی نہ کسی شکل میں واقف ہوتے ہیں لیکن غیر افسانوی نثری اصناف سے جامعات کے طلبا بھی بالعموم آگاہ نہیںہوتے۔
اصناف کی بات ہوئی تو یہ بتاتا چلوں کہ جامعات میں افسانوی اور غیر افسانوی ہر دو طرح کی نثر کی تدریس مختلف اصناف کی صورت میں کی جاتی ہے۔ اور یہ ضروری بھی ہے کیوں کہ مختلف اصناف میں نثر اپنی صورت بدلتی ہے بلکہ مضمون جیسی صنف میں موضوع کی مناسبت سے بھی نثر اپنی شکل تبدیل کرتی ہے اور اس حوالے سے کسی نہ کسی حد تک مختلف اصناف کی تدریس کے تقاضے بھی بدلتے ہیں۔ لہٰذا اصناف کی تقسیم سے تدریس کا عمل موثر ہوگا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ تقسیم کی جاتی ہے وہ مقصد تدریسی عمل سے حاصل نہیں کیا جاتا۔ مثلاً جامعات سے فارغ التحصیل طلبا یہ تو بتا سکتے ہیں کہ مضمون نگاری ایک نثری صنف ہے مگر یہ نہیں بتا سکتے کہ مضمون کی نثر موضوع کی مناسبت سے اپنی ہئیت بھی بدلتی ہے اور نہ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اپنی ہئیت کیسے بدلتی ہے، پھر یہ کہ مختلف اصناف میں نثر کی ہئیت کیا شکل اختیار کرتی ہے۔

اصناف کی تقسیم اس لیے بھی اہم ہوتی ہے کہ طلباءان نثری اصناف سے اور اُن کے تقاضوں سے بخوبی آگاہ ہوسکیں۔ خاص طور پر جامعاتی سطح پر اصناف کی سرسری تعریف یا مبادیات ہی نہیں اُس سے بڑھ کر بھی کچھ جان سکیں مثلاً سفرنامہ نگاری کو لیں، جامعات میں بھی صرف یہ ہی بتایا جاتا ہے کہ جب کوئی ادیب کسی دوسرے ملک کا سفر کرتا ہے اور اس کے بعد سفر سے متعلق اپنے تاثرات، مشاہدات، حالات اور واقعات نثر میں پیش کرتا ہے تو اُسے سفرنامہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ تعریف تو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطحوں کے طلباءکی تدریس کے دوران بھی کی جاتی ہے۔ وہاں بھی مختلف سفرناموں کے مختصر اقتباسات شامل نصاب ہوتے ہیں اور مدرس یہ بنیادی تعریف بتا کر ہی سبق کا آغاز کرتا ہے۔ پھر جامعاتی اور ثانوی سطحوں کی تدریس میں کیا فرق ہوا؟ جامعاتی سطح پر تو ضرورت ہے کہ طلبا کو اصناف کی مبادیات سے آگے بڑھایاجائے اور بعض صورتوں میں مبادیات کو چیلنج بھی کیا جائے۔ خیر اس کا مطلب اب یہ بھی نہیں کہ تدریسی عمل میں مبادیات کو یکسر فراموش کردیا جائے۔ مبادیات کی تدریس پہلا قدم ضرور ہے کیوں کہ ہم یہ بھی توقع نہیں کرسکتے کہ جامعات کی سطح پر پہنچنے والے تمام طلبا ہر صنف کی مبادیات سے اچھی طرح واقف ہو ں گے اور وہ اس لیے کہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر مدرس بے شک جزواً جزواً تو بتاتا ہے کہ یہ سفرنامہ ہے، یہ افسانہ ہے یا یہ مضمون ہے مگر کلیتاً وہ نثر کی تمام اقسام کو ایک ہی نام یعنی ”نثری اسباق“ سے جوڑنے پر مجبور ہوتا ہے کیوں کہ وہاں نصاب کی ترتیب و تنظیم ہی ایسی بنیادوں پر کی گئی ہوتی ہے۔ لہٰذا طلباءکا بنیادی تصور یہ ہوتا ہے کہ اُن کے نصاب میں چودہ یا پندرہ نثری اسباق ہیں۔ اُن میںسے کتنے مضامین، کتنے افسانے، کتنے ناول یا ڈراموں کے اقتباسات اور کتنے سفرنامے وغیرہ شامل ہیں، طلبا کی بیشتر تعداد زیادہ دیر تک ان باتوں سے آگاہ نہیں رہتی۔ اس لیے جامعات کی سطح پر اصناف میں تفریق اُن کی مبادیات کی تدریس سے پیدا کرنا ضروری اور پہلا قدم ہے لیکن زور اس بات پر ہے کہ یہ آخری قدم نہیں ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوا کہ مزید آگے بڑھنا ضروری ہے۔ مثلاً بات سفرنامہ نگاری کی ہورہی تھی تو اس ذیل میں تدریس کا عمل تعریف اور دو چار سفرناموں کے تذکرہ یا شامل نصاب سفرنامہ کے خلاصہ کردینے پر مکمل نہیں ہوگا۔ بات کو ان حدوں سے آگے لے جانا ہوگا۔ مثلاً سفرنامے کو دو تہذیبوں میں قربت کا بہترین ذریعہ اور وسیلہ بتایا او ر سمجھایا جاسکتا ہے اور اُّ س کے لیے شامل نصاب سفرنامے سے ہٹ کر دیگر سفرناموں خاص طور پر عالمی کلاسکس کی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔مثال کے طور پر مارکوپولو کے مشہور زمانہ سفرنامہ کو پیش کیا جاسکتا ہے جس نے اپنے سفرنامے سے مشرق کے بارے میں مغرب کے نقطہ نظر کو بدل کر رکھ دیا۔ اس سفرنامہ کی وجہ سے اہلِ مغرب کا یہ خیال کہ اہلِ مشرق وحشی اور غیر متمدن ہوتے ہیں، بڑی حد تک تبدیل ہوگیا۔ اور یوں مارکوپولو کا یہ سفرنامہ مغربی اور مشرقی تہذیبوں کو قریب لے آیا۔ یعنی یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اعلیٰ سفرنامہ دو تہذیبوں کے درمیان مخاصمت ، دوری اور تعصبات کو مٹانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ وہ صرف مہمات کو ہی دلچسپ پیرائے میں نہیں ڈھالتا بلکہ دوتہذیبوں یا ثقافتوں کے درمیان اپنائیت، یگانگت اور انسانی تعلقات کو بھی استوار کرتا ہے۔ لیکن ہر سفرنامہ یہ فریضہ انجام نہیں دیتا۔ بہت سے سفرنامہ نگار دوسری تہذیب کو تعصب کی نگاہ سے دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ طلباکو ان ہر دو طرح کے لکھنے والوں سے واقف کیا جانا ضروری ہے اور اس کی شناخت سفرنامہ نگار کے اسلوب نثر سے ہی کرائی جاسکتی ہے۔ اگر سفرنامہ نگار دو تہذیبوں کو قریب لانے اور محبت پیدا کرنے کا خواہاں ہوگا تو اس کے اسلوب سے اپنائیت اور خلوص جھلکتا دکھائی دے گا اور اگر مصنف کا نقطہ نظر مخاصمانہ اور عنادانہ ہے تو پھر اُس کے اسلوب میں نفرت اور تعصب کا رنگ ظاہر ہوگا۔

مقالے کا آغاز ہم نے اس بات سے کیا تھاکہ جامعات میں شامل نصاب نثری متون کلاس میں نہیں پڑھائے جاسکتے جب کہ نثر کا طریق تدریس بھی ممکن حد تک Text Oriented یعنی متن اساس ہونا چاہیے۔ کلاس میں متن موضوع تو بنتاہے مگر خود اُس کا وجود کلاس سے غائب ہوتا ہے۔ عام رویہ یہ ہے کہ طلباءکو از خود متن پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے لیکن طلباءبراہ راست متن پڑھنے کے بجائے اس نثری متن سے متعلق اِدھر اُدھر سے چند تنقیدی مضامین پڑھ کر ایک تاثر قائم کرلینے پر اکتفا کرلیتے ہیں جو کسی بھی طور پر احسن رویہ نہیں۔ ہمیں کسی بھی طور متن کوکلاس میں لانا ہے۔ یہ درست کہ پورا نثری متن کلاس میں نہیں پڑھا جاسکتا لیکن اساتذہ طویل نثری فن پاروں کے ایسے منتخب اقتباسات ضرور کلاس میںپڑھا سکتے ہیں جن سے نہ صرف یہ کہ بنیادی موقف کی بھرپور وضاحت ہوسکے بلکہ طلبا اعلیٰ نثر کے نمونوں سے براہ راست آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ لطف اندوز بھی ہوسکیں۔ علاوہ ازیں طلبا کے ذمہ ایسی اسائنمنٹس لگائی جاسکتی ہیں جن کی تیاری میں وہ متن کو براہ راست پڑھنے پر مجبور ہوسکیں۔ پھر یہ کہ کلاس میں دوران بحث اس بات کا پابند کیا جاسکتا ہے کہ طلبا دلیل کے لیے متن کوٹ کریں وغیرہ وغیرہ۔

اصل اور خالص غیر افسانوی نثر کی تدریس سرسید احمد خان کی نثر پڑھانے سے ہی ممکن ہے۔ کیوں کہ مضمون نگاری وہ صنف ادب ہے جو غیر افسانوی نثر کی تعریف پر پوری طرح، پوری اترتی ہے۔ سرسید احمد خان کی مضمون نگاری اس حوالے سے بھی قابل ذکر ہے کہ یہ وہ پہلا قدم تھا جس سے اردو نثر نے پہلی بار اردو نظم سے خود کو اس قدر ممتاز کیا۔ سرسید نے ہی پہلی بار اردو نثر کو جذبات کے اثر سے نکال کر عقل کے تابع کیا لیکن اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ سرسید کی نثر میں جذبات کا عمل دخل سرے سے موجود ہی نہیں۔ بے شک اُن کی نثر میں جذبات بھی ہیں اور تخیل بھی لیکن اس نثر کو بنیادی سروکار عقل سے ہے اور یہی عنصر اسے خالص نثر کے ذیل میں لاتاہے۔

یہ بات تو ہم سب پر عیاں ہے کہ سرسید کی نثر مقصدیت کی حامل ہے اور ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر سرسید کے مضامین اسی بنیادی تصور کے تحت ہی پڑھائے جاتے ہیں لیکن سرسید کا کمال محض یہ نہیں کہ انھوں نے مقصدی اور خالص علمی نثر کو اُردو میں رائج کردیا بلکہ کمال یہ ہے کہ ان کے مضامین کی ایک خاص تعداد علمیت اور مقصدیت کے باوجود ادبیت کی حامل ہے۔ جامعاتی سطح پر سرسید کی نثر کی تدریس کا مرکزی نقطہ یہ ہونا چاہیے۔ سرسید نے جو مذہبی اور تعلیمی یا علمی نوعیت کے مضامین لکھے ان کی اہمیت اپنی جگہ پر اور اُن کا ذکر بھی ضرور کیا جانا چاہیے لیکن تدریس کا مرکز سرسید کی وہ نثر ہونا چاہیے جو ادبیت کے ذیل میں آتی ہے۔ ثانوی اور اعلی ثانوی درجوں پر بے شک اس کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی اور نہ اتناوقت ہوتا ہے کہ ان طلباکو سرسید کی نثر کی ادبیت سے پوری طرح آگاہ کیا جائے لیکن جامعاتی سطح پر اور خاص طور پرجامعات کے اردو کے شعبہ جات میں اس سے گریز ممکن نہیں۔ اگر سرسید احمد خان کو شعبہ سیاسیات یا شعبہ تاریخ وغیرہ میں پڑھایا جارہا ہو تو پھر سرسید کی ادبیت سے زیادہ علمیت اور مقصدیت زیر بحث آئے گی لیکن اردو ادب میں سرسید کے مضامین علمی حیثیت کے حامل ہونے کے باوجود خود کو اپنی ادبیت کی وجہ سے ہی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

اصل میں جامعات کی سطح پر سرسید کی نثر کو پڑھاتے ہوئے بہت سی باتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ سرسید کی نثر کی بہتر سے بہتر تدریس، اردو کی غیر افسانوی نثر کی مجموعی تدریس میں حد درجہ معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہاں تین چار اقدامات کی بات خاص طور پر کی جائے گی۔

اس تدریس کا پہلا قدم تو یہی ہے کہ سرسید کی ادبیت کو پوری طرح موضوع بنایا جائے اور ان کی مقصدیت کا راگ یہ سوچ کر ذرا کم الاپا جائے کہ یہ کام پچھلے درجوں میں بہ احسن و خوبی نبھایا جاچکا ہے لہٰذا پہلے پہل سرسید کے وہ مضامین پڑھائے جائیں جن میں ادبیت کا رنگ واضح ہے مثلاً ”گزرا ہوا زمانہ“،” خوشامد“،”امید کی خوشی“،’ سراب حیات“،”بحث و تکرار“ اور ”آدم کی سرگزشت“ وغیرہ۔ لیکن سرسید احمد خان کی ہی نثر سے ہم مضمون کی مختلف اقسام میں تفریق کی تدریس بھی کرسکتے ہیں اور طلباءکو علمی مقالہ، ادبی مضمون اور انشائیہ میں فرق کی وضاحت کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں ایک ایسا انتخاب پیش نظر رکھنا ہوگا جس کے مطالعہ سے اور کلاس میں بحث کے بعد طلبا اس بات سے آگاہ ہوسکیں کہ ان تینوں اقسام میں کیا فرق ہے۔ بالعموم ایسا نہیں کیا جاتا اور طلباءکا concept اس معاملے میں صاف نہیں ہوپاتا۔ حالاں کہ انشائیہ کی بحث کو بھی سرسید کی مضمون نگاری کے تذکرہ میں ہی نپٹایا جاسکتا ہے۔ سرسید کے مضامین میں انشائی طرز کی تلاش بھی کوئی مشکل امر نہیں۔ اس ضمن میں”طریقہ تناول طعام“ جیسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں اور اردو انشائیہ کے ابتدائی تیور واضح کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ احتیاط لازم ہے کہ استاد اس طرح کی لاحاصل بحثوں میں ہی الجھ کر نہ رہ جائے کہ اردو کا پہلا نشائیہ نگار کون ہے یا پہلا مضمون نگار کون ہے وغیرہ وغیرہ۔

جامعات میں بعض اوقات سرسید کی نثر کی تدریس کا آغاز ہی یہ بات منوانے سے ہوتا ہے کہ سرسید احمد خان اردو کے پہلے مضمون نگار ہیں اور ان کے مقابلے میں ماسٹر رام چندر کی اولیت کو چیلنج کرنے میں بہت سا وقت ضائع کردیا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ بات علمی مقالہ نگاری اور ادبی مضمون نگاری کی تفریق کے تحت زیادہ موثر انداز سے واضح کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے جو طریقہ تدریس اختیار کرنا ہوگا وہ مطالعہ کا تقابلی طریقہ ہے جو عالمی سطح کی تدریس کا موثر اور غالب رجحان ہے۔ عالمی سطح کی تدریس میں تو دیگر زبانوں کے ادب سے تقابل کا بہترین اور سود مند طریقہ رائج ہے مگر ہمارے ہاں اس سے گریز برتا جاتاہے یا اس کا نہایت غیر مفید اور غیر علمی استعمال ہوتا ہے۔ ہم تقابل کے ذریعے کسی ایک کی برتری یا اولیت وفوقیت کو ثابت کرنے پر تُل جاتے ہیں اور تقابل کا بنیادی مقصدیعنی فن یا فکر کی تفہیم، وہ نظرانداز کردیا جاتا ہے۔
بات ہورہی تھی ماسٹر رام چندر اور سرسید احمد خان کی نثر کی اور اُس کے تقابل کی ۔ ہم بجائے اس کے کہ یہ ثابت کرنے پر سارا زور صرف کردیں کہ سرسید احمد خان پہلے مضمون نگار تھے یا ماسٹر رام چندر، ہم دونوں کی نثری تحریروں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بتا سکتے ہیں کہ ماسٹر رام چندر کی نثر علمی مقالہ نگاری کے ذیل میں آتی ہے اور ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے علمی اور سائنسی مقالہ نگاری کی نثر کے ذریعے جس سے اردو بالکل ناآشنا تھی، ایک نئی زبان وضع کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ سرسید نے علمی مضامین جو مقالہ نگاری کے ذیل میں آتے ہیں، لکھنے کے باوجود خالص ادبی مضامین بھی لکھے جو مضمون کی صنف میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اس طرح ہم علمی مقالہ نگاری اور ادبی مضمون نگاری کی نثر میں فرق کر نے کے قابل ہوجائیں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اس تدریس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک دو مقالے ماسٹر رام چندر کے بھی طلباءکو پڑھنے کے لیے دیے جائیں تاکہ وہ خودان میں فرق اور امتیاز کو نشان زد کرسکیں۔

تقابلی مطالعے کا ذکر چلا تو سرسید احمد خان کی نثر پڑھانے کا تیسرا لازمی قدم انگریزی نثر نگاروں سے سرسید کی نثر کا صحت مند تقابلی مطالعہ بھی ہے۔ سرسید احمد خان کی نثر پڑھاتے ہوئے انگریزی نثر سے اس کا تقابل کرنے سے نہ صرف یہ کہ سرسید کی نثر کا وسیع تناظر میں مطالعہ ہوسکتا ہے بلکہ اردو کے طلباءکنویں کا مینڈک بننے سے بھی بچ سکتے ہیں اور اس طرح ان کی انگریزی نثر کا مطالعہ بھی بہتر بنایاجاسکتا ہے اور اردو طلبا پر یہ اعتراض کہ ان کی انگریزی کم زور ہوتی ہے (جو یقینا ہوتی ہے) بڑی حد تک دور کیا جاسکتا ہے۔
عام طور پر جامعات میں سرسید کی نثر کے حوالے سے طوطے کی طرح یہ بار بار رٹایا جاتا ہے کہ سرسید انگلستان گئے اور وہاں اسٹیل اور ایڈیسن کے اخبارات ”ٹیٹلر“ اور ”اسپیکٹیٹر“ سے متاثر ہوئے اور واپس آکر انہوں نے اسی طرز پر ”تہذیب الاخلاق“ کا اجرا کیا۔ حالاں کہ یہ بات بھی طلبا ثانوی درجوں سے مسلسل سنتے چلے آرہے ہوتے ہیں۔ اور جامعات میں بھی بات یہیں سے شروع ہو کر یہیں پر ختم ہوجاتی ہے۔ جب کہ چاہیے تو یہ کہ جب آپ اسٹیل اور ایڈیسن کا اس قدر نام لے رہے ہیں تو طلبا کے سامنے وہ نمونے بھی پیش کریں جن سے سرسید کی مضمون نگاری کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اساتذہ نے خود بھی صرف اسٹیل اور ایڈیسن کے نام سن رکھے ہوتے ہیں ان کے نمونہ نثر سے واقف نہیں ہوتے لہٰذا اپنے طلبا کو بھی بس یہ دو نام رٹا دینا کافی سمجھتے ہیں۔
اگر ہم تدریس کے عمل کو موثر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اس ذیل میں کم سے کم ایک یا دو مضامین خاص طور پر ایڈیسن کے ضرور طلباءکو پڑھنے کے لیے دیں۔ یہاں بھی ایک بات قابل غور ہے کہ صرف suggest نہ کریں طلباءکو مضامینprovide کریں اس سے طلباءکیtext reading کا تناسب بڑھے گا۔ اور یہ مضامین provideکرنے کے بعد انہیں یہ خود دیکھنے دیا جائے کہ کیا واقعی سرسید، ایڈیسن سے متاثر دکھائی دیتے ہیں؟ انھوں نے کہاں کہاں ایڈیسن کی پیروی کی اور کہاں کہاں سے وہ انحراف کرجاتے ہیں؟ مثلاً سرسید نے عام فہم زبان اور اخلاقی درس کے سلسلے میں تو ایڈیسن کی پیروی کی مگر ایڈیسن نے درس اخلاق کے لیے جو مزاج پر مبنی طرز اپنایا اور معاشرتی بداخلاقیوں پر ہنسنے ہنسانے کا جو اسلوب اختیار کیا وہ سرسید احمد خان کے ہاں شاذونادر ہی نظر آتا ہے۔ سرسید کا اسلوب زیادہ ترسنجیدہ اور مفکرانہ ہے۔ اور اس طرح کے اسلوب کی انگریزی مضمون نگاری میں مثال ڈاکٹر جونسن کی ہے لیکن ہمارے ہاں ڈاکٹر جونسن کا نام بالعموم نہیںلیا جاتا۔ اگر طلباءکو ڈاکٹر جونسن سے بھی متعارف کرایا جائے اور ایک آدھ تحریر اس کی بھی پڑھنے کو دی جائے تو طلباءبخوبی جان لیں گے کہ سرسید اور ڈاکٹر جونسن نے نثر کے تبلیغی رنگ کو کس قدر خوبی سے نبھایا ہے کہ وہ بلا تامل قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ طلباءیہ بھی جان لیں گے کہ بڑے بڑے لاطینی الفاظ استعمال کرنے سے ڈاکٹر جونسن کی نثر سرسید کی بہ نسبت زیادہ ثقیل ہوجاتی ہے جب کہ سرسید کی نثر اس حوالے سے ہلکی پھلکی رہتی ہے کیوں کہ ان کا مقصد ہی اردو نثر کو عربی اور فارسی کے بھاری بھرکم الفاظ سے محفوظ رکھنا تھا۔

پھر ایک نام فرانسِس بیکن کا ہے جس نے صحیح معنوں میں نثر کا یہ بنیادی اصول قائم کیا کہ نثر کو عقل کے قابو میں ہونا چاہیے اور جذباتی اور تصوراتی تاثرات کو ضرورت سے زیادہ نہ برتنا چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو سرسید کی نثر کا بھی یہی بنیادی تصور ہے۔ اس لیے اگر طلباءکو فرانسس بیکن کے ”الیسیز“ کا تعارف اور بنیادی موضوع بتایا جائے اور ساتھ اس کا ایک مضمون Of Studies خاص طور پر طلباءکو پڑھنے کے لیے دے دیا جائے تو کیا مضائقہ ہے۔
تقابل کے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا اور زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سرسید عام طور پر جذبات سے دور ہی رہتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود انھوںن ے جذبات کو اکثر جگہوں پر مناسب جگہ بھی دی ہے۔ لیکن ایڈیسن، جونسن اور فرانسس بیکن کی تحریروں کا جذبات سے واسطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب ہم انگریزی ادب کی تاریخ میں ذرا آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا نثر نگار ملتا ہے کہ جس کے ہاں نثر میں جذباتی رنگ کو آمیز کرنے کا قدرتی منکہ موجود ہے۔ یہ نثر نگار چارلس لیمب ہے جس نے مضمون نگاری کی صنف کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ اس کےEssays of Elia مضمون نگاری کا شاہکار کہے جاسکتے ہیں۔اُس نے تو خیر مضمون کی صنف کی ہر صفت کو بڑے کمال سے برتا ہے۔ ہمیں یہاں چارلس لیمب اور سرسید احمد خان کی مضمون نگاری کا مکمل تقابل مقصود نہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ چارلس لیمب جس طرح مضمون میں جذبات کی رنگ آمیزی کرتاہے وہ کیسی ہے اور سرسید احمد خان کے ہاں وہ کس شکل میں ہے۔ سرسید احمد خان کا مضمون ’امید کی خوشی‘ اردو نثر میں اس حوالے سے اہم ہے اور جامعات کے نصاب میں بالعموم شامل بھی ہوتا ہے۔ دوسری طرف چارلس لیمب کا مضمونDream Children اس حوالے سے دنیائے نثر کا اہم ترین مضمون ہے اس لیے اگر طلباءکو یہ مضمون بھی پڑھنے کے لیے مہیا کیاجائے تو انہیں معلوم ہوسکے گاکہ سرسید کے ہاں کیسے کیسے اور کہاں کہاں کے رنگ موجود ہیں۔

یہاں تک ایک بات ضرور واضح ہوجاتی ہے کہ جامعاتی سطح پر اردو کی تدریس کے دوران ہمیں طلباءکو عالمی سطح کی اہم زبانوں کے ادب عالیہ سے ضرور واقف کرانا چاہیے۔ اور یہ کوشش کرنی چاہیے کہ عالمی ادب کے اہم نام اور کام ہمارے لیے یکسر اجنبی نہ رہیں۔ اردو نثر نگاری کی تدریس میں بھی ہمارا یہ مطمح نظر ضرور ہونا چاہیے۔اس لیے اگر سرسیدکی نثر کی تدریس میں درج بالا تقابلی طریق برتا جائے تو دنیائے ادب کے اور خاص طور پر انگریزی ادب کے بڑے بڑے نثر نگاروں سے طلبا کی واقفیت لازم ہے۔

بہرحال سرسید کی نثر کی تدریس کا یہ بھی آخری قدم نہیں ہے۔ سرسید کی نثر کو تنقیدی نقطہ نظر سے بھی کلاس میں پیش کیا جانا ضروری ہے۔ یہ بھی وہ عمل ہے جو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجوں کی تدریس میں نہ تو ممکن ہوتا ہے اور نہ ضروری۔ لیکن جامعاتی سطح پر یہ تدریس کا لازمہ ہونا چاہیے تاکہ اس سطح کے طلباءکے تنقیدی شعور کی بہتر پرداخت ہوسکے۔ اس مقصد کے لیے کلاس میں اس طرح کے سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً سرسید کے مضمون ”گزرا ہوا زمانہ“ یا ”بحث و تکرار“وغیرہ میں آخر میں چند ناصحانہ فقروں نے مضمون کی صحت اور تاثر پر کیا اثر چھوڑا ہے؟ کیا وہ واقعی ضروری تھے یا صرف ایک ناصح مضمون نگار کی تشفی کا باعث ہیں؟ پھر یہ کہ سرسید کی نثر میں بعض جگہوں پر کیا ترکیبوں کا بھدا پن اور لفظوں کا عامیانہ پن محسوس نہیں ہوتا؟ کیا سرسید انگریزی الفاظ کا بغیر ضرورت کے جا بجا استعمال نہیں کرتے جس سے ان کی نثر کا لطف اور کیف متاثر ہوتا ہے؟وغیرہ وغیرہ۔ چوں کہ طلبا نہ صرف یہ کہ سرسید کی بیشتر تحریریں پڑھ چکے ہوں گے بلکہ انگریزی نثر کے شاہکاروں سے بھی آگاہ ہوچکے ہوں گے اس لیے وہ اس طرح کے سوالات پر بہتر اظہار خیال کرسکیںگے اور اس طرح ان کی تنقیدی تربیت کا سامان ہوسکےگا۔
اگر چہ مختصر وقت میں غیر افسانوی نثرکی تدریس کے لیے اس مقالے میں سرسید کی نثر کو ہی زیادہ بنیاد بنایا گیا ہے لیکن میں چند مزید لیکن انتہائی مختصر باتیں غالب کی نثر اور خاکہ نگاری کی تدریس کے حوالے سے بھی کرنا چاہوں گا۔
غالب کے خطوط اور اُن کی نثر بلاشبہ بے مثال ہے۔ بے شک انھوں نے اردو نثر میں سلاست، سادگی، مکالمہ نگاری، ظرافت، طنز اور جزئیات نگاری کو پہلی بار رواج دیا اور ادبی نثر کو زندہ و جاوید کردیا۔ ان سب کی تدریس اپنی جگہ پر لیکن جامعاتی سطح پر تدریس کے دوران غالب کی نثر کا وژن مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ غالب کی نثر کو مکتوب نگاری کے فن سے نکال کر اگر کچھ دیر کے لیے ناول کے تحت بھی دیکھا جائے تو دلچسپ بحث اٹھائی جاسکتی ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوا تھا کہ جامعاتی سطح پر اصناف کی مبادیات پڑھا دینا ہی کافی نہیں بعض اوقات اصناف اور ان کی مبادیات کو چیلنج کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ غالب کے خطوط پڑھاتے ہوئے اس امر کی ضرورت ہے کہ انہیں مکتوب سے بڑھ کر ناول کی حیثیت سے بھی دیکھا اور پڑھا جائے۔ یہاں میں ایک دو اور مثالیں انگریزی ادب سے دینا چاہوں گا۔ اٹھارویں صدی میں انگریزی ادب میں خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوئے جنہوں نے مکتوب نگاری کی نئی صنف ادب کا اضافہ کیا ان میں ایک مجموعہ ہو زلیس والنول کے خطوط کا بھی تھا جس کے بارے میں کہا گیا کہ ان خطوط میں اُس زمانے کی زندگی کے حالات کسی تاریخ یا ناول سے بہتر انداز میں پیش ہوئے ہیں۔ اگر ہوزیس والنول کے خطوط کو اس تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے تو غالب کے خطوط کو کیوں نہیں؟ یہ بھی خاطر نشان رہے کہ والیول کے عہد میں ناول کی صنف وجود میں آچکی تھی جبکہ غالب جس وقت خطوط لکھ رہے تھے اس وقت اردو میں ناول ابھی منظر عام پر نہیںآیا تھا۔ لہٰذا ہمار ے لیے ان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس عہد کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ اور معاشرت ہمیں غالب کے خطوط ہی میں نظر آسکتی ہے۔ ایک دلچسپ بات اور بھی ہے کہ سیموئل رچرڈ سن کی جس کتاب کے لیے پہلے پہل ناول کالفظ استعمال ہوا یعنیPamela or Virtue Rewarded وہ بھی خطوط کا ہی مجموعہ تھی۔

خاکہ نگاری کے ذیل میں ایک بات نہایت اہم ہے۔ ہماری جامعات کے نصاب میں بالعموم کسی ایک خاکہ نگا ر کے ہی خاکوں کا مجموعہ یاانتخاب شامل ہوتا ہے جو میرے خیال سے اس لیے درست نہیں کہ اس طرح اردو خاکہ نگاری کے مختلف اور متنوع اسالیب نثر سے طلباءواقف نہیں ہوپاتے۔ ضروری ہے کہ نصاب میں اردو کے بہترین خاکوں کا ایک انتخاب شامل کیا جائے۔ مثلاً اس ضمن میں ڈاکٹرانور احمد کی کتاب ’اردو کے دس یادگار خاکے‘ یا مبین مرزا کے مرتبہ خاکے ’اردو کے بہترین شخصی خاکے‘ کی جلد اول شامل کی جاسکتی ہے اس طرح طلباءبیک وقت مختلف نثر نگاروں کے اسلوب نگارش سے آگاہ ہوسکیں گے۔ پھر یہ کہ اسی صورت طلباءکو پرانی اور نئی خاکہ نگاری میں تفریق کی تدریس، جو کہ بہت ضروری ہے،موثر انداز سے کی جاسکتی ہے۔عصمت چغتائی کے ”دوزخی“ اور منٹو کے خاکوں کے ذریعے جدید اردو خاکے کے اطوار واضح کیے جاسکتے ہیں۔ اور اسی صورت انہیں شخصیت نگاری اور خاکہ نگاری کا باریک فرق بھی سمجھا یا جاسکتا ہے۔

طنز و مزاح کے ذیل میں بھی نصاب میں صرف شوکت تھانوی یا پطرس بخاری کے ہی مضامین یا مشتاق احمد یوسفی کی ’آب گم‘ شامل کرنے کی بجائے طنز و مزاح پر مبنی مختلف نثر نگاروں کی تحریروں کا انتخاب نصاب میں شامل ہونا چاہیے تاکہ طنز و مزاح کے بھی مختلف اسالیب نثر سے طلبا کی واقفیت ہوسکے۔
جامعات میں تدریس کے دوران اصناف کی تاریخ اور اس کے پس منظر پر عام طور پر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی زور صرف کیا جاتا ہے اور اس بات پر توجہ کم یا بالکل نہیں دی جاتی کہ زیرِ مطالعہ صنف برتنے کا طریقہ کیا ہے اور یہ کیوں اور کیسے برتی جاتی ہے؟ اس کی ضرورت غیر افسانوی نثر کی تدریس میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا اساتذہ کو اس ضمن میں توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے اور اس کے لیے ایک دو عملی کام کروانے چاہئیں۔ مثلاً ایک تو ہر طالب علم کو ایک ایک نثری فن پارہ تنقیدی رائے کے لیے دیا جائے اور اسے تحریری رائے دینے کا پابند بنایا جائے اس کے علاوہ طلباءکو کم سے کم ایک ایک نثری فن پارہ تخلیق کرنے کی تحریک بھی دی جائے اس سے تدریس کے عمل کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

آخر میں ایک بات یہ کہ اساتذہ کو کلاس میں پڑھاتے ہوئے یہ احساس برابر رہنا چاہیے کہ وہ نثر بول رہے ہیں اور طلبا میں بھی یہ احساس اجاگر کرانا چاہیے کہ وہ نثر سن اور بول رہے ہیں تاکہ انہیںمشہور فرانسیسی ڈرامہ نگار مولیئر کے کردار کی طرح اس بات کا احساس چالیس برس بعد نہ ہو کہ وہ جو کچھ بولتے اور سنتے رہے ہیں وہ ہی نثر ہے۔

Allama Iqbal Poetry کلام علامہ محمد اقبال

December 29, 2018
•
Allama Iqbal Poetry کلام علامہ محمد اقبال

Shaheen
The Eagle
Kiya Mein Ne Uss Khakdan Se Kinara
Jahan Rizq Kanaam Hai Aab-o-Dana

I have turned away from that place on earth
Where sustenance takes the form of grain and water.
Bayaban Ki Khalwat Khush Ati Hai Mujh Ko
Azal Se Hai Fitrat Meri Rahbana

The solitude of the wilderness pleases me—
By nature I was always a hermit—
Na Bad-e-Bahari, Na Gulcheen, Na Bulbul
Na Beemari-e-Naghma-e-Ashiqana

No spring breeze, no one plucking roses, no nightingale,
And no sickness of the songs of love!
Khayabanion Se Hai Parhaiz Lazim
Adaen Hain In Ki Bohat Dilbarana

One must shun the garden‐dwellers—
They have such seductive charms!


 Hawa-e-Bayaban Se Hoti Hai Kari
Jawan Mard Ki Zarbat-e-Ghaziyana

The wind of the desert is what gives
The stroke of the brave youth fighting in battle its effect.

Hamam-o-Kabootar Ka Bhooka Nahin Main
Ke Hai Zindagi Baaz Ki Zahidana

I am not hungry for pigeon or dove—
For renunciation is the mark of an eagle’s life.
Jhapatna, Palatna, Palat Kar Jhapatna
Lahoo Garam Rakhne Ka Hai Ek Bahana

To swoop, withdraw and swoop again
Is only a pretext to keep up the heat of the blood.
Ye Poorab, Ye Pacham Chakoron Ki Dunya
Mera Neelgun Asman Baikarana

East and West ‐these belong to the world of the pheasant,
The blue sky—vast, boundless—is mine!
Prindon Ki Dunya Ka Dervaish Hun Mein
Ke Shaheen Banata Nahin Ashiyana

I am the dervish of the kingdom of birds—
The eagle does not make nests

نقادوں کے مشہور اقوال

December 11, 2018
•

نقادوں کے مشہور اقوال



۱. فراق نے اردو شاعری کی طاق میں ہندوستانیت اور آفاقیت کی شمع روشن کی۔ سلام سندیلوی۲. جزبی سلگتی ہوئی آتش رفتہ کا شاعر ہے۔ محمد حسن۳. قاضی عبدالودود تحقیق کے ’’ معلمِ ثانی‘‘ ہیں۔ رشید حسن خان۴. فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں، نیچرل سائنس بائیں ہاتھ میں اور کلمہ طیّبہ کا تاج ہمارے سر پر ہے۔ سر سیّد احمد خاں۵. غزل ایک نیم وحشی صنف سخن ہے۔ کلیم الدین احمد۶. جدیدیت ترقّی پسند تحریک کی توسیع ہے۔ وحید اختر۷. خیالات ماخوذ، واقفیت محدود، نظر سطہی، فہم و ادراک معمولی، غور و فکر ناکافی، تمیز ادنیٰ اور شخصیت اوسط۔ کلیم الدّین احمد نے حالی کے لئے کہا۸. غزل انتہاؤں کا ایک سلسلہ ہے۔ فراق گورکھپوری۹. غزل کی گردن بلا تکلّف اڑا دینی چاہئے۔ جوش ملیح آبادی۱۰. مغلوں نے ہمیں تین چیزیں دی ہیں تاج محل، اردو زبان اور غالب۔ رشید احمد صدّیقی۱۱. اکبر کی شاعری انکے عہد اور انکے ماحول کا آئینہ ہے۔ رشید احمد صدّیقی۱۲. اکبر کی نظر قوم کی میراث پر بھی تھی اور قوم کی تقدیر پر بھی۔ رشید احمد صدّیقی۱۳. میرے نزدیک مارواڑی عورتیں مجموعہ ہیں تین چیزوں کا گھونگھٹ، گندگی اور گہنا۔ رشید احمد صدیّقی۱۴. جوش انقلابی نہیں باغی شاعر ہیں۔ مسعود حسین خان ۱۵. اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے۔ محمد حسین آزاد۱۶. ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ایک وید اور دوسری دیوانِ غالب۔ عبد الرحمٰن بجنوری۱۷. اردو شاعری کے باغ میں ایک نیا ، سرخ پھول کھلا ہے(کیفی اعظمی)۔ سجّاد ظہیر
۱۸. اقبال کے روپ میں غالب نے دوبارہ جنم لیا تھا۔ شیخ عبد القادر۱۹. سر سید، شبلی، حالی، نظیر اور آزاد اردو کے عناصرِ خمسہ ہیں۔ مہدی افادی۲۰. مجاز انقلاب کا ڈھنڈھورچی نہیں انقلاب کا مطرب ہے۔ فیض احمد فیض۲۱. بیدی کے افسانے تراشے ہوئے ہیرے ہیں۔ آل احمد سرورؔ ۲۲. بیدی کے بیشتر افسانوں میں کہانی نہیں تھیم ہوتی ہے۔ اپیندر ناتھ اشکؔ ۲۳. میری خواہش ہے کہ ہندو اردو سیکھیں اور مسلمان ہندی۔ گاندھی جی۲۴. غالب حیوانِ ظریف ہیں۔ حالی۲۵. مثنوی سحر البیان اسم با مسمہ ہے۔ شیر علی افسوسؔ ۲۶. مثنوی زہرِعشق لکھنؤ کی سب سے اچھی مثنوی ہے۔ آل احمد سرورؔ ۲۷. غزل اردو شاعری کی آبرو ہے۔ رشید احمد صدیّقی۲۸. اردو کا آغاز دکّن سے ہوا۔ نصیر الدیّن ہاشمی۲۹. فسانہ عجائب ، الفاظ کا بھٹیار خانہ ہے۔ غالبؔ ۳۰. ہزار کوس سے بزبانِ قلم باتیں کیا کرو ہجر کے مزے لیا کرو۔ غالبؔ ۳۱. مرزا صاحب میں نے وہ اندازِ تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا ہے۔ غالبؔ ۳۲. بیدی تمہاری کمزوری یہ ہے کہ تم سوچتے بہت ہو ، لکھنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ منٹو۳۳. میر امّن کو اردو نثر میں وہی رتبہ حاصل ہے جو میر تقی میر کو شاعری میں۔ سر سیّد احمد۳۴. قیامت کے روز خدا مجھ سے پوچھیگا کہ دنیا سے کیا لائے ہو تو میں کہوں گا کہ حالی سے مسدّس لکھوا کر لایا ہوں۔ سر سیّد احمد۳۵. اردو میں تنقید کا وجود فرضی ہے۔ کلیم الدین احمدؔ ۳۶. یہ شخص(اقبال) مجھے ٹیگور اور شیکسپئر سے کئی ہزار فٹ اونچا نظر آتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی


Qaseeda Ki Tareef In Urdu

December 04, 2018
•

،Urdu poetry

”قصیدہ“ اُس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی کی مدح یعنی تعریف کی جاۓ یا کسی کی ہجو یعنی بُرائی کی جاۓ۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ لفظ قصیدہ قصد سے نکلا اور اسکا سبب یہ ہے کہ شاعر ارادہ کر کے کسی کی مدح یا ہجو کرتا ہے۔ بعض نے اس کے معنی ”مغزِ غلیظ“ کے بیان کیے ہیں .
غزل کی طرح قصیدے کا پہلا شعر بھی مطلع کہلاتا ہے اور اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ وہ ردیف ہوتا ہے بعض قصیدے بغیر ردیف کے ہوتے ہیں .باقی اشعار کے دوسرے مصرعوں میں قافیہ وہ ردیف یا صرف قافیہ ہوتا ہے .غزل ہی کی طرح قصیدے میں بھی مقطع ہوتا ہے لیکن قصیدے میں کچھ چیزیں غزل سے مختلف ہوتی ہیں مثلاً درمیاں میں کئ مطلعے ہو سکتے ہیں اور مقطع ضروری نہیں کہ قصیدے کا آخری شعر ہو .

فہرست

قصیدے کی اقسا م

قصیدے کے اجزائے ترکیبی

١ تشبیب
٢ گریز
٣ مدح
٤ مدعا
٥ دُعا
قصیدے کا آغاز و ارتقاء
کیا آپ نے یہ پڑھا؟
قصیدے کی اقسا م
قصیدے کی دو قسمیں ہوتی ہیں :

١ْخطابیہ اور٢ْ تمہيدیہ


١ ۔۔خطابیہ قصیدہ وہ ہے جس میں شاعر تمہید باندھے بیغر مدعا بیان کر دے .مطلب یہ کہ اگر قصیدہ مدحیہ ہے تو شاعر ممدوح کو خطاب کرے اور اس کے اُوصآف کو بیان کرنا شروع کر دے .ہجویہ ہے تو براہ راست اس کی مذمّت کرنے لگے تھے .اصل مدعا وعظ وہ نصیحت ہے تو بلا کسی تمہید کے آغاز ہو جاۓ .


٢ ۔۔تمہیدیہ قصیدہ وہ ہے جس میں اصل مدعا سے پہلے تمہید باندھی جاۓ پہر مدعا بیان کیا جاۓ .یہ تمہید تشبیب یا نسیب کہلاتی ہے اور بہار و خزاں جس میں عشق اور پند و نصیحت کے مضامین پر مشتمل ہو سکتی ہے .اسی کی رعایت سے قصیدے کو بہاریہ .عشقیہ اور واعظیہ کہا جا سکتا ہے .

قصیدے کے اجزائے ترکیبی
نہ صرف اردو بلکہ عربی اور فارسی میں بھی تمہیدیہ قصائد کا رواج رہا ہے .یعنی قصیدہ نگار مدح یا ہجو کرنے سے پہلے تمہید باندھتا ہے .پھر اصل موضوع پر آتا ہے .تمہیدیہ قصیدے کے عموماً پانچ اجزاء ہوتے ہیں :
تشبیب ،گریز ۔ مدح ، مدّعا اور دعا ۔ذیل میں ان پانچوں اجزاء کی وضاحت کی جاتی ہے .

١ تشبیب

قصیدے کی تمہید کو تشبیب یا نسیب کہتے ہیں .تشبیب کے موضوعات مختلف ہو سکتے ہیں .اس میں شباب و شراب کا ذکر کیا جا سکتا ہے .بہار کی منظر کشی کی جا سکتی ہے .تشبیب میں خود ستائی یعنی اپنے اوصاف بیان کرنے کی بھی گنجائش ہے .یہ بھی ممکن ہے کہ تشبیب پند و نصائح پر مشتمل ہو یا اس میں بے ثباتیِ دنیا کا بیان ہو غرض یہ کہ تشبیب کے موضوعات لامحدود ہیں .

تشبیب کو قصیدے کا سب سے اہم حصّہ خیال کیا جاتا ہے .اس لئیے شاعروں نے اس پر بہت محنت کی ہے .غالبؔ کو اپنی تشبیب پر بڑا ناز تھا انہوں نے بہادر شاہ ظفر کی مدح میں ایک قصیدہ لکھا ہے جس کی تشبیب بہت دلکش ہے .پہلی تاریخ کا چاند انھیں ایسا لگتا ہے جیسے کوئ شخص تسلیم بجا لانے کو جھکا ہوا ہے .شاعر سوال کرتا ہے کہ اے مہ نو یہ بتا کہ تو جھک کر کسے سلام کر رہا ہے

ہاں مہ نو سنیں ہم اسکا نام
جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام

٢ گریز

تشبیب کے بعد شاعر مدح کی طرف قدم بڑھا تا ہے .وہ براہِ راست مدح نہیں کرتا بلکہ بات سے بات پیدا کر کے مدح کی طرف آتا ہے .اس بات سے بات پیدا کرنے کو گریز کہتے ہیں .غالب کے قصیدے سے تشبیب کی جو مثال او پر پیش کی جا چکی اس میں شاعر پوچھتا ہے کہ اے مہ نو آخر تو کس کو جھک کے سلام کر رہا ہے .جواب نہیں ملتا تو کہتا ہے کہ تو اس کا نام نہیں جانتا تو لے میں بتاتا ہوں .وہ تاجدار بہادر شاہ ہے

تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن
نام شائہنشہ بلند مقام

قبلہ جان و دل بہادر شاہ
مظہر ذلجلال والاکرام ۔
یہ گریز کی مثال ہوئی .

٣ مدح

.اس کے بعد شاعر اپنے ممدوح کی تعریف کرتا ہے اور اس میں خوب مبالغ سے کام لیتا ہے یہی قصیدے کی خوبی ہے .قصیدے میں خاص طور پر مدح کے حصّے میں شاعر پر شکوہ الفاظ کا استعمال کرتا ہے اس سے مدح میں زور پیدا ہوتا ہے مدح مثال ملاحظہ ہو .

سہسوارِطریقہ انصاف
نو بہار حدیقہی اسلام

جس کا ہر فعل صورت اعجاز
جس کا ہر قول معنی الہام


٤ مدعا

قصیدے کا چوتھا جز مدعا یا عرض مطلب ہے یعنی مدح گوئی کے بعد قصيده نگار اپنا مدعا بیان کرتا ہے جیسے غالب نے ایک قطعے میں اپنی مالی مشکلات بیان کرنے کے بعد کہا ہے .

میری تنخوا کیجئے ماہ بہ ماہ
تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار

لیکن یہ قصیدے کا لازمی جز نہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہر قصیدے میں شاعر اپنا مدعا بیان کرے .

٥ دُعا


قصیدے کا آخری جز دعا ہے یعنی شاعر اپنے ممدوح کو درازی عمر یا بلندی اقبال وغیرہ کی دعا دے کر قصیدہ ختم کر دیتا ہے .جیسے غالب نے اپنے قصیدے میں بہادر شاہ کو دعا دی کہ تمہاری سلطنت قیامت تک باقی رھے .

ہے ازل سے روانی آغاز
ہو ابد تک رسائ انجام

قصیدے کا آغاز و ارتقاء
قصیدے نے سر زمیں عرب میں جنم لیا اور وہاں بے حد مقبول ہوا لیکن قدیم شعراۓ عرب نے قصیدہ گوئی کو جھوٹی خوشامد اور کار بر آری یعنی اپنا کام نکالنے اور انعام پانے کے لیے استعمال نہیں کیا .عرب شعراء قصیدے میں اپنے قبیلے ۔اپنے گاؤں .کسی بزرگ یا اپنے محبوب کی تعریف بغیر کسی غرض کے صدق دل سے کرتے ہیں .

اس وقت قصیدے میں جھوٹ اور مبالغے کا بھی گزر نہ تھا .اس لئے قصیدہ نگار جو کچھ لکھتا ہے .سننے اور پڑھنے والے اس پر یقین کرتے تھے .لیکن آگے چل کر یہ صورت نہ رہی اور شاعر اپنے حصول مطلب کے لیے استعمال کرنے لگے. عرب سے یہ صنف ایران پوھنچی .وہاں کی مخصوص تہذیب نے اسے متاثر کیا نتیجہ یہ کہ قصیدے میں تصنعے ۔ بناوٹ ۔ مبالغہ آرائ اور جھوٹ کا دور دور ہو گیا فارسی کے بلند پایا شاعروں نے قصیدے کی طرف توجہ کی اور اسے بہت فروغ دیا لیکن قصیدہ اب مصلحت کا شکار ہو چکا تھا اور اسے کام نکالنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا تھا .

اردو میں قصیدہ نگاری کی شروعات دکن سے ہوئی سلطان محمّد قلی قطب شاہ نے ١٦١١ ء کے قریب قصيدے لکھے .ان قصائد کی زبان کو دکنی اردو کہنا بجا ہے کیوں کہ دکنی الفاظ کی کثرت ہے .دکن کے قصیدہ گو شعراء میں نصرتیؔ کا نام بھی اہم ہے اس کے بعد شمالی ہند میں سودا نے قصیدہ گوئ میں بڑا نام ادا کیا اس صنف سے انکی طبیعیت کو خاص مناسبت تھی .

انھون نے مدحیہ ۔ ہجو قصائد بھی لکھے اور شہر آشوب بھی کہے .قصیدہ نگاری کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں مثلاً زور بیان .شوکت الفاظ مضمون نیز پر کششت دلچسپ گریز ۔پر جوش اور مبالغہ آمیز مدح وہ سب سوداؔ کے قصیدوں میں موجود ہے. لکھنو میں مصحفیؔ و انشاءؔ نے بھی بہت سے قصیدے لکھے لیکن عہد سوداؔ کے بعد قصیدہ نگاری کا دوسرا اہم نام مومنؔ ذوقؔ. اور غالبؔ کا ہے .مومن کسی دربار سے وابستہ نہ تھے نہ انعام و اکرام کے طلبگار تھے لیکن اظہارِ تشکر کے طور پر انھوں نے بھی قصیدے کہے .

غالب نے کہئ قصیدے لکھے اور اس میدان میں بھی اپنا راستہ سب سے الگ نکالا .قصيده نگاری میں ان کی توجہ مدح سے زیادہ تشبیب پر رہتی ہے .غالب کے قصیدے اپنا انفرادی رنگ رکھتے ہیں .لیکن اس عہد کے سب سے اہم قصيده گو ذوقؔ ہیں .ان کے قصیدے گہرا علمی رنگ لئیے ہوئے ہیں اور ان میں اصطلاحات کا کثرت سے استعمال ہوا ہے .

منیرؔ شکوہ آبادی .امیرؔ مینائی اور جلالؔ لکھنوی لکھنو اسکول سے تعلق رکھتے ہیں .مرثیہ گوئی میں انہیں اعلی مقام حاصل ہے نعتیہ قصیدہ گوئی میں محسنؔ کاکوری نے قابل رشک مقام حاصل کیا .قصيدے اس کے بعد بھی کہے گیۓ لیکن پھر کوئی ایسا قصيده نگار پیدا نہیں ہوا جس کا نام قابلِ ذکر ہو.


munnvar rana منور رانا

November 27, 2018
•



*آج دورِ جدید کے عظیم شاعر ، "منور رانا " کا یومِ پیدائش ہے*


🥀🥀◾ *منــــور رانــــــــا* ◾🥀🥀

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

*◾مختصر تعارف◾*


*نام:- منور رانا*

*پیدائش:- ۲۶ نومبر ۱۹۵۲*

*وطن:- رائے بریلی، اترپردیش (بھارت)*

*پیشہ:- شاعر*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

*جدید اردو اور ہندی کے ایک بہترین شاعر محترم منور رانا صاحب ۲۶ نومبر ۱۹۵۲ کو رائے بریلی میں پیدا ہوئے* 
*کم سنی میں ہی آپ کے اہلِ خانہ بریلی سے کلکتہ ہجرت کر گئے... اور آپ کی تعلیم و تربیت شہر کلکتہ میں ہی ہوئی*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

*◾حـــالاتِ زنــــدگی◾*


*آپ کے زیادہ تر رشتہ دار سن سینتالیس کے بٹوارے میں پاکستان جا بسے تھے، جن میں آپ کے قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے... مگر آپ کے والد صاحب نے ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی...*

*کچھ عرصہ بعد آپ کے اہلِ خانہ نے بریلی سے کلکتہ ہجرت کی... اور وہیں آپ کی ابتدائی تعلیم بھی ہوئی*

*آپ کی شاعری نہ صرف اردو بلکہ ہندی، بنگالی اور گرومکھی زبانوں میں بھی شائع ہوتی رہی ہے*
*آپ نے فصیح و بلیغ اردو پر سلیس اور سادہ زبان کو ترجیح دی جس میں ہندی اور اودھی زبان کے الفاظ کی بھی آمیزش ہوتی تھی... اور شائد یہی وجہ ہے کہ آپ کو اہلیانِ اردو کے علاوہ دیگر تمام طبقوں میں بھی یکساں مقبولیت ملی ہے*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

*◾ادبی ســـــــفر◾*


*منور رانا صاحب نے نہ صرف اردو بلکہ ہندی اور بنگالی زبانوں میں بھی اشعار کہے ہیں*
*آپ کی کئی غزلیں ہندوستان بھر کے مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے ہیں.... آپ کے زیادہ تر اشعار کا مرکزی مفہوم ماں اور ماں کی مامتا ہوتا ہے جو کہ عصرِ حاضر کے کسی شاعر میں نہیں پایا جاتا*

ع
*اے اندھیرے دیکھ لے منہ تیرا کالا ہوگیا*

*ماں نے آنکھیں کھول دی گھر میں اجالا ہوگیا*



ع
*میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں*

*صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا* 

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

*◾اعــــــزازات◾*


*◾ساہتیہ اکادمی ایوارڈ برائے اردو ادب (۲۰۱۴)*
*(مگر آپ نے حکومتِ ہند کے تئیں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف خاموش احتجاج کے طور پر یہ ایوارڈ ۲۰۱۵ میں واپس کردیا تھا*


*◾وشِشت رِتورجا سمّان ایوارڈ (پرمپرا کویتا پَرو، ۲۱۰۲)*


*◾امیر خسرو ایوارڈ (۲۰۰۶)*

*◾میر تقی میر ایوارڈ (۲۰۰۵)*

*◾شہود عالم افقوئی ایورڈ (۲۰۰۵)، کلکتہ*

*◾غالب ایوارڈ (۲۰۰۵)، اُدئے پور*

*◾ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ (۲۰۰۵)، دہلی*

*◾سرسوتی سماج ایوارڈ (۲۰۰۴)*

*◾مولانا عبدالرزاق ملیحابادی ایوارڈ (۲۰۱۱)، مغربی بنگال اردو اکادمی*

*◾سلیم جعفری ایوارڈ (۱۹۹۷)*

*◾دلخوش ایوارڈ (۱۹۹۵)*

*◾رئیس امروہی ایوارڈ (۱۹۹۳)، رائے بریلی*

*◾بھارتی پریشد ایوارڈ*

*◾ہمایوں کبیر ایوارڈ*

*◾بزمِ سخن ایوارڈ*

*◾الہ آباد پریس کلب ایوارڈ*

*◾استاد بسم اللہ خان ایوارڈ*

*اسکے علاوہ متعد سماجی و ادبی تنظیموں نے آپ کو اعزازات سے نوازہ ہے*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

*◾نمونۂ کلام◾*



*◾غـــــــزل*


بادشاہوں کو سکھایا ہے قلندر ہونا 
آپ آسان سمجھتے ہیں منور ہونا 

ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے 
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا 

صرف بچوں کی محبت نے قدم روک لیے 
ورنہ آسان تھا میرے لیے بے گھر ہونا 

ہم کو معلوم ہے شہرت کی بلندی ہم نے 
قبر کی مٹی کا دیکھا ہے برابر ہونا 

اس کو قسمت کی خرابی ہی کہا جائے گا 
آپ کا شہر میں آنا مرا باہر ہونا 

سوچتا ہوں تو کہانی کی طرح لگتا ہے 
راستے سے مرا تکنا ترا چھت پر ہونا 

مجھ کو قسمت ہی پہنچنے نہیں دیتی ورنہ 
ایک اعزاز ہے اس در کا گداگر ہونا 

صرف تاریخ بتانے کے لیے زندہ ہوں 
اب مرا گھر میں بھی ہونا ہے کلنڈر ہونا 


➖➖➖➖➖➖➖

*◾متفرق اشــــــــعار*


ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

➖➖➖

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آجاتی ہے

ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

➖➖➖

کہیں بے نور نہ ہو جائیں وہ بوڑھی آنکھیں

گھر میں ڈرتے تھے خبر بھی مرے بھائی دیتے

➖➖➖

کیا جانے کہاں ہوتے مرے پھول سے بچے

ورثے میں اگر ماں کی دعا بھی نہیں ملتی

➖➖➖

کچھ نہیں ہو گا تو آنچل میں چھپا لیگی مجھے

ماں کبھی سر پہ کھلی چھت نہیں رہنے د یگی




غزل کی تعریف

November 14, 2018
•



غزل کی تعریف


غزل اردو شاعری کی مقبول ترین صنف سخن ہے۔

غزل خالصتاً عربی لفظ ہے ۔ فیروز اللغات کے مطابق غزل کے معنی ٰ ’’عورت سے بات کرنا ہے ‘‘ اور ’’لغات کشوری‘‘ میں غزل کے دو معنیٰ دیئے گئے ہیں جس میں ایک ہے ’’ وہ شخص جو عورتوں کے عشق کی باتیں کرتا ہے ‘‘۔ اور دیگر معنوں میں ’’کاتنا‘‘ ۔ ’’رسی بٹنا‘‘ یا ’’سوت ریشی‘‘ کے ہیں ۔ اور جو ہو بہو عربی کے معنی ٰہیں ۔

       اگر ہم غزل کے معنی ٰ عورت سے باتیں کرنا مراد لیں تو مناسب یا درست دکھائی نہیں دیتا ۔ چونکہ ہر عورت سے باتیں کرنا یعنی ماں سے باتیں کرنا ‘ معلمہ سے باتیں کرنا ‘      استانی یاٹیچر سے باتیں کرنا بہن سے باتیں کرنا یا رشتہ دارخاتون و عزیز سے باتیں کرنا وغیرہ ۔ غزل کیسے کہلائے گی ؟     البتہ لغت کشوری میں دونوں معنیٰ غزل کے معنوں میں درست ہیں۔ اول الذکر کی مناسبت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان آپسی بات چیت ان کے درمیان راز ونیاز کی باتیں ‘ شکوے شکایتیں ‘ روٹھنے منانے کی باتیں ‘ ملنے بچھڑے کی باتیں ‘ حسن و عشق کی باتیں وعدے و فاؤں کی باتیں اسطرح نوجوان لڑکے لڑکیوں کے درمیان ہونے والی عشقیہ بات چیت کو غزل کے معنی و مفہوم میں لیا جاتا ہے ۔ 

  اسطرح غزل سے مراد صنف نازک سے لطف اندوز ہونا ‘ اس کے حسن و جمال کی تعریف کرنا اس سے عشق و محبت کا اظہار کرنا اور اسی طرح کے حسین جذباتی واردات غزل کہلاتی ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالحلیم ندوی لکھتے ہیں کہ ’’ جاہلی دور کے اصناف سخن میں سب سے اہم اور ممتاز صنف غزل ہے۔ اور اس غزل کا موضوع اور محور عورت تھی ۔ کیونکہ غزل کے معنی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی آپس کی بات چیت اور عورتوں سے لطف اندوزی اور ان سے حسن و محبت کی باتیں کرنا ہے ‘‘ ۔(عربی ادب کی تاریخ ۔ ص 130)



اصناف شاعری کی بات کی جائے تو غزل و اصناف شاعری میں ایک حسین و جمیل نازک سی صنف سخن ہے ۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ عروس شاعری (Bride of Poetry) ہے جو بام عروج پر ہے ۔ اوراہمیت کی حامل ہے ۔ یہ صنف ہر دور ‘ ہر طبقہ ہر تہذیب اور ہر زمانہ میں ہر عام و خاص کی مقبول ترین صنف رہی ۔ ماضی میں بھی ہر ایک کے دل کو لبھا رہی تھی اور عصر حاضر میں بھی ہر کوئی اس کا دیوانہ ہے اور یقیناً اس کا سحر کل بھی کم نہ ہوگا ۔ اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غزل اس صنف کو کہیں گے جس میں حسن وعشق یا محب و محبوب سے متعلق مضامین شامل ہوں ۔ یعنی ہجو وصال کا تذکرہ ‘ سوز و غم کا ذکر ‘ وصل معشوق کی لذت اور اسطرح کی دیگر کیفیات عشق واردات محبت شامل ہوں یعنی آنکھوں سے آنکھیں چار ہونا اور ہوش و حواس گم ہونا اور ہمیشہ حسن یار میں کھوئے رہنا وغیرہ ۔ یعنی

ملے کسی سے نظر تو سمجھو غزل ہوئی
رہی نہ اپنی خبر تو سمجھو غزل ہوئی

اس روایت کے مدنظر اردو کی زیادہ تر کلاسیکی شاعری حسن و عشق کے مختلف واردات و کیفیات سے ہی متعلق ہے ۔بلکہ ان ہی کیفیات میں رچی بسی ہوئی ہے اس طرح شروعات میں یہ حسین صنف سخن صرف اور صرف حسن و جمال عشق و محبت کے وارداتوں کے ارد گرد گھومتی رہی جس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اردو شاعری ہمیشہ فارسی شاعری کی مقلد رہی اس تعلق سے ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی رقمطراز ہیں کہ ’’ شعر و شاعری کا عموماً اور ایشیائی شاعری کا خصوصاً عشق و محبت کے جذبات و احساسات سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ۔ ہماری اردو شاعری سراسر فارسی شاعری کی متبع ہے اپنے ابتدائی حالات میں عشق و محبت و معشوق و دیگر لوازمات عاشقی کے وہی سانچے وہی تصورات اور وہی معیار رکھتی ہے جو ایران میں اس وقت رائج تھے ‘‘ ۔( دلی کا دبستان شاعری ۔ ص 24)

 صنف غزل کی شروعات عربی ادب میں ہوئی اور عرب صحرا پر مشتمل ہے جہاں قدرتی مناظر کا فقدان ہے نہ ہی ہرے درخت ہیں اور نہ ہی خوشنما پھول پودے وغیرہ ہیں یہی وجہ ہے کہ عربی غزل میں زیادہ تر تمثیل کے بہ نسبت راست بیانی نمایاں ہے ۔ اس تعلق سے امراؤ القیس کے اشعار کا ترجمہ دیکھئے ۔

کہتے ہیں کہ لیلیٰ عراق میں بیمار ہے
کاش ایسا ہوتا کہ میں اس کا طبیب ہوتا

تیرا جمال مری نگاہوں میں تیری محبت مرے دل میں ہے
تیرا ذکر مرے لبوں پہ ہے مگر تو کہاں غائب ہے

اس کے برعکس ایران کی فضاء عرب سے مختلف تھی جہاں پھل ‘ پھول‘ درخت ‘ پہاڑ یعنی قدرتی حسین مناظر کی فراوانی تھی جس کا عرب میں فقدان تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی شاعری اور خصوصاً فارسی غزل میں علامتیں شامل ہوگئیں ۔ اس طرح گلاب کا پودہ ‘ بلبل ‘ سیپ اور موتی ایرانی شاعری میں استعارے کے طور پر شامل ہوگئے ۔ اردو شاعری خصوصاً غزل میں بھی لوازمات کے طور پر شامل ہوگئے جو غزل کو مزید نکھارنے ‘ منوانے اور اس کے حسن کو چار چاند لگانے میں معاون و مددگار ثابت ہوئے اسطرح عربی غزل کے برعکس فارسی و اردو غزل میں راست اظہارکی بہ نسبت بالواسطہ اظہار کے سلسلے میں فارسی کا یہ شعر سنداً پڑھا جاتا ہے ۔

خوش تر آن باشد کہ سرد براںگفتہ آید در حدیث گراں

اسی طرح اُردو کے اشعار دیکھئے ۔

سناتے ہیں انہیں افسانہ قیس
بہانے ہیں یہ عرض مدعا کے
(حسرت موہانیؔ)

اس سلسلے میں ایک شعر اصغرؔ کا دیکھئے ۔

کہکے کچھ لالہ و گل کا رکھ لیا پردہ میں نےمجھ سے دیکھا نہ گیا حسن کا رسوا ہونا

اس کے باوجود بعض اُردو شعراء نے حسن کو بے پردہ دِکھانا چاہا جس سے بات اپنے مقام سے نیچے اتر جاتی ہے ۔ سراج الدین ظفر کا یہ شعر دیکھئے ۔

 شیدائی ہر نجمہ و ریحانہ ہوئیپازیب کی جھنکار کا دیوانہ ہوئی

اس طرح اظہار کے کئی طریقے ہیں جو غزل میں رائج ہیں جو اس صنف سخن کو ’’عروس سخن‘‘ دیتے ہیں۔ مثلاً تشبیہ ‘ استعارہ ‘ کنایہ‘ مجاز مرسل ‘ تجسیم‘ تشخص‘ تلمیح اور دیگر کئی صنائع معنوی شامل ہیں چند اشعار دیکھئے جو اظہار کے مختلف طریقوں پر مشتمل ہیں ۔

تشبیہ :

نازکی ان کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
(میر تقی میرؔ)

کنایہ :

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزہ خون ریز ہے ساقی
(اقبالؔ)

تلمیح:

 ہم سہل پسند کون سے فریاد تھے
 لیکن اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی نہیں ہے
( فیض احمد فیض ؔ)

اپنے کعبہ کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا
(معراجؔ فیض آبادی)

وہ جو کٹ جاتے تھے مٹ جاتے تھے راہ حق میں
آہ ! اب ایسے بہتّر ہی کہاں ہوتے ہیں(اطہرؔ)

تجسیم :

مئے صورت گل دست صبا کا نہیں ہوتا
کرتا ہے مرا جوش جنوں میری قبا چاک

تشخیص :

کہا میں نے کتنا ہے گل کاث
بات کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

استعارہ :

اگر کج روہے انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں جہاں تیرا ہے یا میرا

مجاز مرسل :

سحر کو سمجھا میں استعارہ
قمر کو سمجھا مجاز مرسل
(طباطبائی)

ان صناعی معنوں کے علاوہ وہ شاعر اپنے لئے زمین و آسماں سے بہت سی علامتیں چن لیتا ہے علائم سنجی کا یہ کام جس قدر بڑے پیمانے غزل میں میں ہوا ہے شاید ہی کسی صنف سخن میں ہوا ہو ۔ یہ علامتیں قدرت کے مختلف مظاہر یا نظاموں سے لی گئی ہیں۔ مثلاً صحراء ‘ آسمان ‘ سمندر ‘گلشن وغیرہ وغیرہ ۔ عموماً سمندر کی علامت وقت کیلئے نجم ‘ انجم رہنما کیلئے کام خلق کے لئے وغیرہ وغیرہ چند اشعار دیکھئے ۔

دام ہر موج میں ہے حلقہ صد گام
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

اب اگر غزل کی فکر میں مزید نظر ڈالیں توپتہ چلتا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ غزل میں بھی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ اس کے مضامین میں تبدیلیاں و اضافے ہوتے رہے ہیں ۔غزل کی سوچ بدل گئی ہے اب وہ وسیع القلب ہوتی جا رہی ہے کئی موضوعات سمائے جا رہے ہیں ایک طرح سے کہا جائے ’’ تو گاگر میں ساگر‘‘ کو سمویا جا رہا ہے ۔

      ہوتی ہے یہاں دل کی ہر ایک بات غزل میں۔
 
Copyright © اردوادب. Designed by OddThemes